0
Wednesday 4 Nov 2015 07:03

7 نومبر کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرے کا اعلان

7 نومبر کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرے کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد کے خلاف 7 نومبر کو سری نگر میں حریت کانفرنس ملین مارچ جبکہ اسلام آباد پاکستان میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہو گا۔ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ حریت کانفرنس آزادکشمیر کے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس کی صدارت کنوینر غلام محمد صفی نے کی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کی طرف سے نریندر مودی کے 7 نومبر کو دورہ سرینگر کے موقع پر سید علی گیلانی کی کال پر اقوام متحدہ کے اسلام آباد دفتر کے باہر ایک بہت بڑی پرامن احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں عوام اور سیاسی جماعتوں سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں بزرگ حریت رہنماء سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ قابض انتظامیہ کے پاس مجوزہ ملین مارچ پروگرام پر قدغن کا کوئی اخلاقی، قانونی اور آئینی جواز نہیں ہے۔ 

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جب غیر مقامی اور فرقہ پرست عناصر کشمیر میں ریلیاں منعقد کر سکتے ہیں تو مقبوضہ علاقے کے عوام کو پرامن مارچ کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت کشمیرکی سڑکیں سونے کی بھی بنا دے تب بھی کشمیری اپنے حق  حق خودارادیت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں اور اب قابض بھارتی فوج نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ حریت رہنماؤں نے مودی کی آمد کے موقع پر ملین مارچ، ہڑتال اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

سید علی گیلانی کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کی آمد پر ملین مارچ کے اعلان سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکارہو گئی ہے۔ نریندر مودی کی آمد سے پہلے ہی وادی میں پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ہے، قابض بھارتی فوج نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی اور یاسین ملک کو گھروں میں نظربند جبکہ شبیر شاہ، الطاف شاہ، امتیاز حیدر سمیت متعدد حریت رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ادھر کشمیر ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں اکتوبر کے دوران پرامن مظاہرین پر فائرنگ، لاٹھی چارج اور تشدد کر کے چودہ مظاہرین کو شہید اور نو سو اکیانوے کو گرفتار کیا۔ بھارتی فوج کے تشدد میں اسی عرصے کے دوران تین سو اکتالیس مظاہرین زخمی ہوئے۔
خبر کا کوڈ : 495514
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب