0
Wednesday 11 Nov 2015 18:30
دشمن اس بات سے ناراض ہے کہ اسے ایران کے اندر نفوذ کرنیکا موقع نہیں مل رہا ہے

پوری دنیا ہماری تیز رفتار علمی اور سائنسی پیشرفت سے محو حیرت ہے، آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای

پوری دنیا ہماری تیز رفتار علمی اور سائنسی پیشرفت سے محو حیرت ہے، آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی شعبے خاص طور پر یورینیم کی افزودگی کے میدان میں حاصل شدہ صلاحیت کو ایران سے مغرب کی دشمنی میں شدت کا باعث قرار دیا ہے۔ ایران کی یونیورسٹیوں اور اعلٰی تعلیم کے مراکز کے سربراہوں، علمی شخصیات اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے بدھ کو رہبر انقلاب اسلامی سے تہران میں ملاقات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں تیسری دنیا کے ملکوں کے لئے مغرب والوں کی استعماری منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ یونیورسٹیوں میں مغربی سبک زندگی اور طرز تفکر کے مطابق ملکوں کے اعلٰی افسران اور ذمہ دار عہدیداروں کی تربیت کی جائے، لیکن ایران میں یونیورسٹی طلباء کے ایرانی تشخص اور دینی و اسلامی افکار کی گہرائی کے باعث انہیں اپنے اس منصوبے کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آیت اللہ العطمٰی سید علی خامنہ ای نے استعمار اور ایٹم بم کو علم و دانش کے غلط راستے پر جانے کے تاریخی نتائج میں شمار کیا اور کہا کہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ علم و دانش اخلاقیات اور دینداری سے الگ نہ ہونے پائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران میں ملک کے نوجوان سائنسدانوں کے ذریعے یورینیئم کی بیس فیصد افزودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران ری ایکٹر، جس کا مقصد نیوکلیئر میڈیسن کی تیاری ہے، ایندھن ختم ہو رہا تھا اور مغرب والوں نے ایندھن فراہم کرنے کے لئے ذلت آمیز شرائط پیش کیں تو ہمارے مومن اور نوجوان سائنسدان اپنی توانائیاں بروئے کار لائے اور انھوں نے دن رات محنت کرکے ملک کی بیس فیصد افزودہ یورینئیم کی ضرورت پوری کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ایران، یورینئم کی ننانوے فیصد تک افزددگی کا کام بہت آ‎سانی سے انجام دے سکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایٹمی مسئلے میں مغرب والوں کی بوکھلاہٹ کی وجہ بھی یہی ہے، حالانکہ اگر انہوں نے ہمیں بیس فیصد افزودہ یورینیئم دے دیا ہوتا تو ہم بیس فیصد افزودگی کا کام بھی انجام نہ دیتے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی مذاکرات کے دوران مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران ترقی و پیشرفت کے راستے پر پوری قوت کے ساتھ گامزن ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ نے سائنسی پیشرفت ایران کے مقابلے میں ایک سو چالیس سال پہلے شروع کی ہے، کہا کہ جس چیز نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے، وہ ہماری تیز رفتار علمی اور سائنسی پیشرفت ہے، چنانچہ عالمی اداروں کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ ایران میں علمی و سائنسی ترقی کی رفتار دنیا کے مقابلے میں تیرہ گنا زیادہ ہے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ آج یونیورسٹیاں اور یونیورسٹیوں کے طلبا سامراجی قوتوں کی سازشوں کی زد پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمن یونیورسٹیوں میں انقلابی افکار و جذبات، ان کی معین کردہ ممنوعہ حددود کے توڑے جانے اور انقلابی نعروں کے ساتھ علم و سائنس کا پرچم بلند ہونے سے وحشت زدہ ہیں اور اس کے مقابلے کی منصوبہ بندی پر بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ موجودہ دور میں استعماری روشیں بدل گئی ہیں، کہا کہ تسلط پسند طاقتیں اب یہ کوشش کر رہی ہیں کہ ملکوں کے ذہین اور فعال عناصر کے افکار کو اس طرح تبدیل کریں کہ وہ ان کے اہداف کے لئے کام کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے عالمی سطح پر ایران کی عزت و وقار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احساس کمتری بہت ہی خطرناک چیز ہے، جبکہ پوری دنیا اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ایران ایک باعزت و مقتدر ملک ہے اور دشمن اس بات سے ناراض ہے کہ اس کو ایران کے اندر نفوذ کرنے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 497208
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے