0
Monday 23 Nov 2015 19:30
ایران کو اطمینان بخش اور قابل بھروسہ اتحادی سمجھتے ہیں، ولادیمیر پوتن

خطے کیلئے طویل المیعاد امریکی مںصوبہ تمام ممالک بالخصوص ایران اور روس کیلئے نقصان دہ ہے، سید علی خامنہ ای

خطے کیلئے طویل المیعاد امریکی مںصوبہ تمام ممالک بالخصوص ایران اور روس کیلئے نقصان دہ ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ علاقے کے لئے امریکہ کا طویل المیعاد منصوبہ سبھی ممالک اور اقوام بالخصوص ایران اور روس کے لئے نقصان دہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہوشیاری اور باہمی تعاون کے ذریعے اس منصوبے کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تہران پہنچنے پر روس کے صدر پوتن نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے روسی صدر سے ملاقات میں تہران اور ماسکو کے درمیان دوطرفہ علاقائی اور عالمی تعاون میں توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے علاقائی مسائل خاص طور پر شام کے معاملے میں روس کی موثر موجودگی کی تعریف کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے روس کے صدر پوتن کو آج کی دنیا میں ایک ممتاز شخصیت قرار دیا اور ایران کے ایٹمی معاملے میں روس کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ایک نتیجے تک پہنچ گیا ہے، لیکن ایران کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور وہ اس معاملے میں پوری دقت کے ساتھ اور آنکھیں کھول کر امریکہ کے کردار و اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کو ہرگز قابل اعتماد نہیں سمجھتے، اسی لئے ہم نہ تو شام کے مسئلے اور نہ ہی کسی اور ایشو پر امریکہ سے دو طرفہ مذاکرات کر رہے ہیں اور نہ مستقبل میں ایسا کریں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے خاص طور پر گذشتہ ڈیڑھ برسوں کے دوران مختلف مسائل کے بارے میں روسی صدر کے موقف کو صحیح اور جدت پسندی پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے حریفوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کریں، لیکن آپ نے امریکیوں کی اس پالیسی کو ناکام بنا دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی خامنہ ای نے شام کے مسئلے میں ماسکو کے اقدامات اور فیصلے کو بھی علاقائی اور عالمی سطح  پر روس کی ساکھ میں بہتری اور خود روسی صدر پوتن کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بتایا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ وہ شام پر تسلط جمائیں اور اس کے بعد پورے خطے پر کنٹرول حاصل کریں اور یہ منصوبہ سبھی اقوام اور ممالک خاص طور پر روس اور ایران کے لئے خطرناک ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے شام کے قانونی اور منتخب صدر بشار الاسد کو حکومت سے ہٹانے کے حوالے سے امریکیوں کے اصرار کو واشنگٹن کی ناکام پالیسیوں میں سے قرار دیا اور کہا کہ شام کے صدر نے پورے ملک میں ہونے والے انتخابات کے ذریعے عوام کے سبھی طبقات کا ووٹ حاصل کیا، اس لئے امریکیوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شام کے عوام کی خواہشات اور فیصلے کو نظر انداز کریں۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھی اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے گرانقدر تجربات کی جانب اشارہ اور ان سے اپنی ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ روس اور ایران کے درمیان مختلف میدانوں بالخصوص ایرو اسپیس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں روز افزوں تعاون سے مطمین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی اور عالمی مسائل کے حل میں بھی روس ایران کے ساتھ تعاون سے خوش ہے۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس ایران کو اپنا اطمینان بخش اور قابل بھروسہ اتحادی سمجھتا ہے۔ ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس اپنے اتحادیوں کی پشت میں خنجر نہیں گھونپتا۔ روس کا اگر کسی ایشو پر اپنے دوستوں کے ساتھ اختلاف ںظر ہو تو ہم اسے گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ولادیمیر پوتن نے رہبر انقلاب اسلامی کے اس موقف کہ امریکہ میدان جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کو مذاکرات کی میز پر محقق کرنا چاہتا ہے، کاملاً اتفاق کیا اور کہا کہ ہم اس طرف پوری طرح متوجہ ہیں اور ہرگز امریکہ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ روسی صدر نے شام کے معاملے میں ایران اور روس کے موقف کو بہت قریب بتایا اور کہا کہ روس کا موقف ہے کہ شام کا بحران صرف سیاسی طریقے سے ہی حل ہوسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 499842
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب