0
Tuesday 22 Dec 2015 23:15

ذین قتل کیس، وکلاء کے درمیان قانونی جنگ جاری، ڈی این اے رپورٹ کا انتظار

ذین قتل کیس، وکلاء کے درمیان قانونی جنگ جاری، ڈی این اے رپورٹ کا انتظار
اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائی کورٹ نے زین قتل کیس میں مصطفی کانجو سمیت تمام ملزموں کی بریت کے خلاف سرکاری اپیل کی سماعت کے دوران پراسکیوٹر جنرل پنجاب کو مصطفی کانجو کی گاڑی سے ملنے والے مقتول کے خون کے نمونے کی ڈی این اے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ٹرائل کورٹ نے تمام شہادتیں قلمبند کئے بغیر ملزموں کو بری کر دیا، جبکہ اس کیس کی ایک اہم شہادت سے متعلق ڈی این اے رپورٹ فرانزک لیب سے بھی موصول ہونا تھی۔ ان کا کہنا تھاکہ مقتول زین کو مصطفی کانجو کے ساتھی نے زخمی حالت میں اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور مقتول زین کے خون کے ان نمونوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے فرانزک لیب میں بجھوایا گیا تھا۔ جس کی رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی کیس تھا، پراسیکیوشن کو یہ رپورٹ بروقت لانا چاہیئے تھی، ایسی سٹیٹ آف آرٹ لیب بنانے کا کیا فائدہ کہ 5،5 ماہ تک رپورٹ نہ مل سکے، جبکہ قانون کہتا ہے کہ ایسے مقدمے کا فیصلہ سات دنوں میں ہو۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے صرف گواہوں کے منحرف ہونے پر مصطفی کانجو اور دیگر ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا۔ پراسیکیوشن کو مکمل طور پر جرح کا حق نہیں دیا گیا، زین کے قتل میں استعمال ہونے والی کلاشنکوف برآمد کی گئی، فرانزک رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ زین کو لگنے والی گولیاں، اسی کلاشنکوف سے فائر کی گئیں۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت سے استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا مصطفی کانجو اور دیگر ملزموں کو بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے پراسکیوٹر جرنل کی استدعا پر ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ پیش کرنے کے لئے مہلت دے دی۔ طالب علم زین کو یکم اپریل کو کیولری گراونڈ کے علاقے میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو پر زین کے قتل کا الزام ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 27 اکتوبر کو مصطفی کانجو کو ساتھیوں سمیت بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 28 دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 507135
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب