0
Wednesday 20 Jan 2016 01:35

خطے کی صورتحال اور جہان اسلام کا تقاضا ہے کہ اتحاد ترقی کیلئے بنیں نہ کہ جنگ کیلئے، ڈاکٹر حسن روحانی

خطے کی صورتحال اور جہان اسلام کا تقاضا ہے کہ  اتحاد ترقی کیلئے بنیں نہ کہ جنگ کیلئے، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے روابط ہمیشہ سے خاص خصوصیات کے حامل رہے ہیں، ان دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بہت قریبی تعلقات قائم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہران میں پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کیا۔ ایرانی صدر کا فائیو پلس ون گروپ کے ساتھ ہونے والے ایٹمی سمجھوتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس معاہدے نے ایک مناسب موقع فراہم کر دیا ہے کہ اس خطے کے تمام ممالک اس مناسب فضا سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے عوام کے مفادات کی خاطر اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے باہمی روابط اور ہمکاری کو ارتقاء دیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی مذاکرات علاقائی مسائل اور باہمی مشکلات کو حل کرنے کے لئے ایک نمونہ اور آئیڈیل ہوسکتے ہیں، جن سے سبق لیتے ہوئے باہمی تعاون کو بڑھانے، خطے کے پیچیدہ مسائل اور مشکلات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے بہتر انداز میں حل کیا جاسکتا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سے اقتصادی پابندیوں کے ہٹنے سے بہتر استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور دو طرفہ باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران مل کر خطے کے مسائل حل کرنے کے لئے بھی موثر کوشش بھی کرسکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران پاکستان میں استحکام اور امن و امان کے قیام کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے گذشتہ روابط اور ہمکاری کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران اور پاکستان نے باہمی مشارکت اور ثم آور مشترکہ کوششوں کے ذریعے خطے میں استحکام اور امن و امان کے قیام میں اپنا موثر اور بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں بہت پریشان کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی پالیسی دنیا کے تمام ممالک بالخصوص اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعمیری تعلقات استوار کرنا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ وہ ممالک جو دہشتگردی کے خلاف جنگ  کر رہے ہیں، ان کی طرف سے مدد کی درخواست کی صورت میں ایران مثبت جواب دے گی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے درمیان فاصلے اور اختلافات ایجاد کرنے کے پالیسیاں ناقابل قبول ہیں، ہم شیعہ اور سنی سمیت تمام مسلمانوں کے درمیاں وحدت و اتحاد بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں اور حاضر ہیں کہ دہشتگردی سے مقابلے، شدت پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے خطے کے ممالک کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم باہمی روابط کو بڑھانا چاہتے ہیں اور کشیدگی کا خیرمقدم نہیں کرتے، لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ مسلمان عوام کے حقوق کا احترام اور خطے میں موجود اقوام کی تکریم کی جائے، دیگر یہ کہ بین الاقوامی سفارتی اداب کا بھی خیال رکھا جائے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خطے کی موجود صورتحال اور جہان اسلام اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالم اسلام میں ترقی و پیشرفت کے لئے اتحاد بنائے جائیں نہ کی جنگ افروزی کیلئے۔ اس ملاقات میں پاکستان وزیراعظم نواز شریف کا دونوں ہمسایہ ممالک کے دوستانہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مختلف میدانوں میں تعلقات کو توسیع دینا پاکستان کے لئے بہت فخر کی بات ہے اور ہم ان روابط کو مزید بڑھانے کے لئے بھرپور کوشش کریں گے۔ پاکستان وزیراعظم نے ایٹمی معاہدے کی شاندار کامیابی پر ایرانی صدر کو مبارک باد دی اور کہا کہ یہ معاہدہ ایران کی جانب سے خردمندی، تدبیر اور بہتر مینجمنٹ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ایران کا مدبرانہ رویہ قابل تحسین ہے۔ اسی طرح نواز شریف نے مسلمانوں کو درپیش موجودہ شرائط اور خطے کے امن و امان کو درپیش مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں اسلام ہراسی کی جاری لہر بہت پریشان کن ہے اور خطے میں موجود دہشتگرد اور شدت پسند مسلمان ممالک کے درمیان عدم اتحاد کی صورتحال سے سوء استفادہ کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 513726
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش