0
Wednesday 10 Feb 2016 01:35
شام کے تنازعہ میں ملوث ہونے سے پاکستان کی داخلی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے

زمینی فوج بھیجنے کے سعودی اعلان کے باوجود پاکستان شام کے معاملہ پر غیر جانبدار رہے، قائمہ کمیٹی سینیٹ

زمینی فوج بھیجنے کے سعودی اعلان کے باوجود پاکستان شام کے معاملہ پر غیر جانبدار رہے، قائمہ کمیٹی سینیٹ
اسلام ٹائمز۔ ایوان بالا کی مجلس قائمہ برائے خارجہ امور نے حکومت کو تلقین کی ہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت تشکیل دیئے گئے 34 رکنی اتحاد میں شمولیت کے حوالہ سے محتاط طرز عمل اختیار کیا جائے، کیونکہ شام کے تنازعہ میں ملوث ہونے سے پاکستان کی داخلی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد اور پاکستان کی غیر جانبداری کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ مجلس قائمہ کا اجلاس سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت ہوا۔ سرتاج عزیز اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے مجلس قائمہ کو باور کرایا کہ پاکستان مذکورہ اتحاد کی تشکیل کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اپنی شمولیت کی نوعیت کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے انسداد کی ہر کوشش کی عالمی اور علاقائی سطح پر حمایت کی ہے۔ 34 ملکی اتحاد کی حمایت بھی اسی وجہ سے کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گروپ دراصل 34 ہم خیال ملکوں کا اجتماع ہے، جس میں ان ملکوں کے درمیان مشاورت سے شمولیت کا بتدریج فیصلہ کیا جائے گا۔
وزارت خارجہ کی طرف سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں وزیراعظم نے امریکی نائب صدر جو بائیڈن اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستان نے خلوص کے ساتھ افغانستان کے امن کے لئے کوشش کر رہا ہے۔ فروری کے آخر تک افغانستان اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات متوقع ہیں، مذاکرات کے عمل کو کامیاب کرنے کے لئے اعتماد سازی پر بھی کام کیا جائے گا۔ ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے کوششوں کے نتائج میں وقت لگے گا۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ شام میں زمینی فوج بھیجیں گے، پاکستان 34 ممالک اتحاد میں شامل ہے، لیکن شام کے معاملہ پر غیر جانبدار رہنا چاہئے۔

دیگر ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ 34 مسلم ممالک کے اتحاد میں پاکستان کے شامل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے حکومت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔ سعودی عرب کی سربراہی میں یہ اتحاد مبینہ طور پر شام میں زمینی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ گذشتہ روز سینیٹ کمیٹی کے اراکین نے ایک اجلاس کے دوران شام تنازع میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ داعش کو شکست دینے کے لئے وہ شام میں فوج بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ امریکہ کی جانب سے مذکورہ اعلان کو خوش آمدید کہا گیا اور متحدہ عرب امارات نے شام میں زمینی فوجیں بھیجنے کے لئے اپنی تیاری کے مکمل ہونے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کے سوال پر سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی اتحاد کے حوالے سے تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں اور یہ کہ حکومت مقررہ وقت کے دوران فیصلہ لے سکتی ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے مذکورہ معاملے پر وزارت خارجہ سے دو ٹوک بیان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے پر گریز کرنے سے عوام کے لئے درست تاثر نہیں جارہا۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ حکومت کی جانب سے غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا کہ وہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس پر کوئی فیصلہ کر لے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پہلے بھی پالیسی بیان میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ترین مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ حکومت کا ردعمل مبہم ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ شام کشیدگی میں ملک کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے اراکین نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور یہ اندرونی صورت حال کے لئے خطرناک ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی مفاد کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور ہر قیمت پر غیر جانبدار رہا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا ماننا ہے کہ کمیٹی نے اس ابھرتے ہوئے مسئلے پر بات چیت کرکے حکومت کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عطاء الرحمٰن نے اس خوف کا اظہار کیا کہ شام تنازع میں کسی ایک فریق کی حمایت کرنے سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔
خبر کا کوڈ : 519647
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب