0
Tuesday 23 Feb 2016 23:56

34 ممالک کا نام نہاد اتحاد دراصل اسلام و قرآن کیخلاف سازش ہے، علامہ سبطین حسینی

34 ممالک کا نام نہاد اتحاد دراصل اسلام و قرآن کیخلاف سازش ہے، علامہ سبطین حسینی
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید سبطین حسینی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں یہ جو 34 ممالک کا اتحاد ہے، یہ نام نہاد اتحاد کے علاوہ کچھ نہیں، داعش کوئی بہت بڑی دہشتگرد تنظیم نہیں، 25 ہزار دہشتگردوں کیلئے کسی ایک ملک کا ہونا کافی ہے، ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیساتھ انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ اس کیلئے 34 ممالک کا اتحاد بنایا جائے، یہ دراصل اسلام، قرآن اور اسلامی ممالک کے عوام کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے، جیسا کہ امریکہ نے ہی داعش کی تشکیل کی، امریکہ نے ہی طالبان کو بنایا، اب ان کیخلاف نام نہاد اتحاد کا سرپرست بنا ہے، اور یہ علمانہ ذمہ داری ایک بار پھر سعودی عرب نے قبول کی۔ تو سعودی عرب کی خیانت شروع دن سے سرعام ہے، انہوں نے فلسطین کیخلاف اسرائیل کا ساتھ دیا، ان کے شہزادے ببانگ دہل کہتے رہے کہ ہم اسرائیل کیساتھ ہیں، کچھ عرصہ پہلے بھی ایک سعودی شہزادے کا اس حوالے سے انٹرویو پوری دنیا نے دیکھا، میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کی آزادی کیلئے اس قسم کا اتحاد بننا چاہئے۔ یہ دراصل اسلامی ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے، پاکستان کی فوج ایک بہادر فوج ہے، اور اس کے سپاہ سالار ایک بہادر اور بابصیرت فوجی اور سپاہ سالار ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہمیں اس قسم کے کسی اتحاد کا حصہ بننے کی بجائے اس کی مخالفت کرنی چاہئے، پاکستان کے عوام بھی حکومت کو اس قسم کے کسی اتحاد کا حصہ بننے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ پاکستان وہ ملک کے جو لاکھوں قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا، یہ کوئی اتفاق فاونڈری نہیں کہ نواز شریف اس کو اپنے کاروبار کی نہج پر چلائے، اس اتحاد کی کوئی وقعت نہیں، اسلامی ممالک کے عوام بھی ہوشیار ہیں، اس قسم کے اتحادوں سے ان کی بخوبی واقفیت ہے، ایسا اتحاد جس کی سرپرستی ایسا ملک کرے جس کے پاس دہشتگردوں کی نرسریاں ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں دہشت کا بازار گرم کیا ہو، جو حج جیسے مقدس موقع پر بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی مزموم کوشش کرتے ہیں، تو انشاء اللہ ان کے یہ عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے، پاک فوج بھی اپنی بصیرت، بصارت اور ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انشاء اللہ ایسے اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔
خبر کا کوڈ : 523214
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش