0
Wednesday 16 Mar 2016 10:17

بھارت بھر میں کشمیری طلاب کے سروں کی گنتی شروع، پولیس کو ہدایت جاری

بھارت بھر میں کشمیری طلاب کے سروں کی گنتی شروع، پولیس کو ہدایت جاری
اسلام ٹائمز۔ مغربی بنگال کی جادو پور یونیورسٹی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پولیس کی کارروائی کے خلاف جلوس کے دوران ملک مخالف اور کشمیر کی آزادی کی حمایت میں نعرے بازی کے تناظر میں کولکتہ پولس نے تمام کالجوں کو کشمیری طلباء سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی ہدات دی ہے۔ کولکتہ سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار نے پولیس کے حکم نامہ کی کاپی کے ساتھ رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ کولکتہ پولس نے تمام کالجوں سے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے رہنے والے طلباء سے متعلق تفصیلی معلومات پیش کیا جائے۔ پولیس کے ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ ”مرکزی وزارت داخلہ نارتھ بلاک کی ہدایت کے مطابق آپ کے ادارے میں زیر تعلیم طلباء جو جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے متعلق معلومات فراہم کریں“۔

اس ہدایت نامہ پر پولیس اسٹیشنوں کے آفیسر انچارج انٹیلی جنس کے دستخط ہیں۔ انگریزی اخبار کے مطابق یہ ہدایت نامہ فروری میں جاری کئے گئے ہیں۔ فروری میں ہی جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جادو پور یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اس رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے جوائنٹ کمشنر آف پولس (انٹیلی جنس) پلی کانتی گھوش نے کہا کہ یہ رپورٹ صحیح ہے کہ کشمیری طلباء سے متعلق معلومات حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے اس پر مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی انٹیلی جنس کی ہدایت کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے کہ مرکزی ایجنسی نے کولکتہ انٹیلی جنس سے کشمیری طلباء سے متعلق معلومات طلب کی تھی۔

ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست میں زیر تعلیم کشمیری طلباء سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ترجمان کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا واقعہ پیش آنے کے بعد اس طرح کے حالات دوبارہ واقع نہ ہو، اس لئے تمام ریاستی حکومتوں سے رپورٹ طلب کی گئی ہے یہ رپورٹ آنے کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے ممتا بنرجی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کہ آخر کشمیری طلباء کو ہراساں کیوں کیا جارہا ہے۔ اس معاملے میں اب تک مغربی بنگال کی حکمراں جماعت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی بنگال کی مشہور اور باوقار جادو پور یونیورسٹی میں جلوس کے دوران کشمیر اور منیپور کی آزادی کی حمایت میں نعرے بازی کی گئی تھی۔ جواہر لعل نہرویونیورسٹی کے برعکس اس معاملے میں نہ جادو پور یونیورسٹی نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی کولکتہ پولس نے کوئی کارروائی کی ہے۔ تاہم بی جے پی نے کولکتہ ہائی کورٹ میں اس معاملے میں مفاد عامہ کی عارضی دائر کی جس میں عدالت نے جادو پور یونیورسٹی سے حلف نامہ طلب کیا ہے۔ جادو پوریونیورسٹی کے وائس چانسلر سورنجن داس نے جادو پوریونیورسٹی کے طلباء کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے طلباء نے متنازع نعرے بازی نہیں کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 527828
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب