0
Monday 21 Mar 2016 11:43

وزیراعلٰی نے دھمکی دیکر خطے کے عوام کی توہین کی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی جی بی

وزیراعلٰی نے دھمکی دیکر خطے کے عوام کی توہین کی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی جی بی
اسلام ٹائمز۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے عہدیداروں نے وزیراعلٰی جی بی حفیظ الرحمٰن کی طرف سے ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وزیراعلٰی نے عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی توہین نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کی رائے کی توہین کی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ ایکشن کمیٹی کے خلاف صوبائی حکومت کو مزید ایکشن میں آنے کی ضرورت نہیں، ان کا ایکشن پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے اب عوام کے حقوق کے لئے حقیقی معنوں میں ایکشن کمیٹی حرکت میں آئے گی اور عوامی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس ایگزیکٹیو باڈی کے اراکین سید یعصوب الدین، نظام الدین، قائم علی شاہ، فدا حسین، محمد فاروق، نظم خان و دیگر نے کہا کہ وزیراعلٰی کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے خلاف بیان پر ہمیں تحفظات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلٰی کا یہ بیان ان کی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیان میں وزیراعلٰی نے کمیٹی کے مینڈیٹ کو مسترد کردیا، یہ گلگت بلتستان کے عوام کی توہین ہے، چونکہ ایکشن کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ عوام کے مطالبات پر مبنی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حفیظ الرحمٰن وفاقی حکومت کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے وفاق کے فیصلے عوام پر مسلط کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے وزیراعلٰی کو حقوق کے لئے بات کرنے اقتصادی راہداری منصوبے میں مناسب حصے کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے اور کرپشن کو روکنے کے لئے مینڈیٹ دیا تھا، مگر یہاں یہ سب الٹا ہوا۔ نوکریوں کی فروخت کا سلسلہ پہلے سے زیادہ ہوگیا، غیرقانونی بھرتیوں کے لئے ریٹ بڑھایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گلگت بلتستان کو دولخت کرنے اور گلگت اور بلتستان کو تقسیم کرنے کے لئے عوام نے وزیراعلٰی کو مینڈیٹ نہیں دیا تھا اور عوام کی ملکیتی زمینوں کو خالصہ سرکار قرار دے کر ان سے محروم کرنے کے لئے عوام نے وزیراعلٰی کو مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔ گلگت اور اسکردو روڈ پر سیاست کرکے وزیراعلٰی نے ووٹ لیا اب وہ اس منصوبے میں رکاوٹ بن رہے ہیں حالانکہ یہ منصوبہ پورے بلتستان کے لئے بہت اہم ہے۔

مولانا سلطان رئیس نے چیلنج کیا کہ وزیراعلٰی مینڈیٹ کھوچکے ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ میرے پاس عوامی مینڈیٹ ہے تو آئے ہم چارٹر آف ڈیمانڈ لے کر آتے ہیں پتہ چلے گا کس کے پاس مینڈیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال گندم سبسڈی پر دئیے گئے احتجاجی دھرنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہمارے مطالبے کو تسلیم کیا اب وزیراعلٰی خود کو وزیراعظم سے بھی اوپر سمجھتے ہوئے ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ انہوںنے کہا کہ حفیظ الرحمٰن سے بہتر تو مہدی شاہ کی حکومت تھی جس میں ہم نے آزادانہ ماحول میں کئی روز احتجاج کرتے رہے، اب وزیراعلیٰ ہماری احتجاجی حق کو بھی چھین رہے ہیں۔ ہم کسی بھی ڈکٹیٹر کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔
خبر کا کوڈ : 528677
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب