0
Tuesday 22 Mar 2016 04:06
حزب اللہ کو عرب اور اسلامی ممالک میں بہت زیادہ احترام حاصل ہے

حماقت اور جنگی جنون کی صورت میں اسرائیل کو بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا، سید حسن نصراللہ

سعودی عرب اور ترکی نہیں چاہتے کہ شام میں سیاسی رہ حل نتیجہ خیز ثابت ہو
حماقت اور جنگی جنون کی صورت میں اسرائیل کو بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف جنگ کی صورت میں اسرائیل کو بھاری تاوان ادا کرنے پڑے گا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے پیر کی رات کو المیادین چینل کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ایرانی حکام خاص طور پر صدر مملکت حسن روحانی کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ ہيں، انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام کے درمیان حزب اللہ کی حمایت کے بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے علاقے کی تازہ ترین صورتحال، خاص طور پر لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کی دھمکیوں اور خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکہ کی اجازت کے بغیر ن‍ئی جنگ شروع نہیں کرے گا، لیکن حماقت اور جنگی جنون کی صورت میں اسرائیل کو بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ مسلسل اپنی توانائیوں میں اضافہ کر رہی ہے اور یہ اپنے اور اپنے ملک کے دفاع کے لئے اس کا حق ہے۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل روز و شب لبنان کی فضائی، بری اور بحری حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس طرح کے اقدامات کے معنی یہ ہیں کہ اسرائیل خود کو مستقبل میں لبنان کے خلاف جنگ کے لئے آمادہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے کی صورت میں ہمیں حق حاصل ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے ہر علاقے خاص طور پر اس غاصب حکومت کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنائیں۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ شام کے حوالے سے ایران اور روس کا موقف ایک ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں روس کے داخل ہونے کا فیصلہ کوئی اچانک نہیں تھا بلکہ کئی مہینوں تک ایران، روس اور شام کے درمیان اعلٰی سطح پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور ہمیں اس بات کی اطلاع تھی۔ انہوں نے کہا حالیہ مہینوں کے دوران ہمیں شام میں تکفیریوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اس مسئلے سے سعودی عرب جیسے دہشت گردوں کے حامی چراغ پا ہوگئے ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ حزب اللہ کو دہشت گرد گروہ قرار دینے کا خلیج فارس تعاون کونسل کا فیصلہ، سعودی عرب کا فیصلہ ہے اور اس کونسل کے دیگر ممالک اس فیصلے کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ آل سعود حکومت ہے جو ہمیں دہشت گرد سمجھتی ہے، سعودی عوام نہیں۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب حزب اللہ کو ختم کرنے کے درپے ہے، لیکن حزب اللہ کو عرب اور اسلامی ممالک میں بہت زیادہ احترام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کے بارے میں بیرونی ممالک اپنے نظریات مسلط نہ کریں، بلکہ شام کے عوام کو ہی اپنی تقدیر کے فیصلے کا حق دینا چاہئے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پہلے نمبر پر سعودی عرب ہے جو نہیں چاہتا کہ شام میں سیاسی راہ حل نتیجہ خیز ثابت ہوسکے اور پھر دوسرے نمبر پر ترکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 528851
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب