0
Friday 1 Apr 2016 23:14

گلگت بلتستان کو 67 سالوں سے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، مولانا سلطان رئیس

گلگت بلتستان کو 67 سالوں سے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، مولانا سلطان رئیس
اسلام ٹائمز۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت گلگت بلتستان کی پاکستان میں شمولیت حادثاتی نہیں تھی بلکہ یہاں کے عوام کی خواہش کا نتیجہ تھی۔ اس کے باوجود ہمیں گذشتہ 67 سالوں سے دانستہ طور پر استحصال کا شکار رکھا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کی خوشحالی اور قومی ضروریات کی تکمیل کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جی بی کی 12 مرکزی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ ہمارا مکمل اتحاد ہو چکا ہے اور ہم نے پُرامن جدوجہد کا آغاز کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندگان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محرومیوں کے نام پر آواز بلند کرنے والی مختلف تحریکیں علحیدگی کا مطالبہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن گلگت بلتستان کے محب وطن باسی پاکستان کے آئین کی پاسداری کے لیے بےتاب ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے بغیر ہمیں ہمارا آئینی حق دیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خالصہ سرکار کے نام پر جتنی اراضی گورنمنٹ آف گلگت بلتستان کی تحویل میں ہے اسے قومی مفادات کے برعکس تقسیم کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ وزیراعلٰی حفیظ الرحمٰن کی گردن میں اس وقت سریا آیا ہوا ہے لیکن امید ہے کہ بہت جلد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔ پاک چین اقتصادی راہدری کے معاملے پر ہمیں نظر انداز کیا جارہا ہے، دوسری طرف کشمیر کا حصہ بھی اس میں رکھا ہوا ہے۔ سی پیک منصوبے کے حوالے سے گلگت بلتستان کے ساتھ یہ غیر مساویانہ طرز عمل ایک ناروا سلوک ہے۔ گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ سمجھنے کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان رقبے کے اعتبار سے کشمیر سے چھ گنا بڑا ہے۔ کشمیر کو گلگت بلتستان کا حصہ کہا جانا چاہیے نہ کہ گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دس نکاتی چارٹر میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان چائنہ اقتصادی راہدری میں گلگت بلتستان کو تیسرا فریق تسلیم کرتے ہوئے نیا معاہدہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ عائد شدہ تمام ٹیکسز ، ناتوڑ رول، لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری کے خاتمے سمیت میٖڈیکل و انجینئرنگ کالج کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کے علاوہ امامیہ کونسل کے فدا حسین، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ اصغر عسکری، اتحاد علما کونسل کے مولانا غلام رسول ناصر، تحریک انصاف کے ایڈووکیٹ معظم علی، تحریک اسلامی کے ولایت بلتی اور آل یوتھ آف گلگت بلتستان کے صدر حسنین کاظمی بھی شامل تھے۔
خبر کا کوڈ : 530935
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب