0
Friday 6 May 2016 15:08

احتجاج کرنیوالے مخالفین اور دہشتگرد پاکستان کی ترقی روکنا چاہتے ہیں، وزیراعظم نواز شریف

احتجاج کرنیوالے مخالفین اور دہشتگرد پاکستان کی ترقی روکنا چاہتے ہیں، وزیراعظم نواز شریف
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سڑکوں اور چوراہوں کو روکنے والے بھی وہی کام کر رہے ہیں، جو دہشت گرد کر رہے ہیں، پاکستان کا امن و امان خراب کرنا اور پاکستان کی خوشحالی کا راستہ روکنے والوں اور دہشت گردوں میں کیا فرق ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں سکھر ملتان موٹروے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے خطاب میں کہا کہ اگر ملک میں دھرنوں کی سیاست نہ ہوتی تو راہداری منصوبہ بہت پہلے شروع ہو چکا ہوتا، دہشت گرد پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، سڑکوں اور چوراہوں کو روکنے والے بھی وہی کام کر رہے ہیں، جو دہشت گرد کر رہے ہیں، پاکستان کا امن و امان خراب کرنا اور پاکستان کی خوشحالی کا راستہ روکنے والوں اور دہشت گردوں میں کیا فرق ہے، دونوں پاکستان میں افراتفری اور بے چینی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جب بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، تو وار کرنے والے کچھ نہ کچھ کرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کا وار کامیاب ہونے نہیں دیں گے، قوم ان کے ایجنڈے کو مسترد کر چکی ہے، آپ کا ایجنڈا نہیں چلے گا، پاکستان کے عوام نے ہمیں ترقی کا مینڈیٹ دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں، ورنہ ایٹمی دھماکا نہ کر پاتے، پاکستان بہت جلد دنیا کی عظیم اقتصادی قوتوں میں شامل ہو جائے گا، قوم دیکھ رہی ہے کہ کون اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں کا حامی ہے اور کون روڑے اٹکا رہا ہے، جبکہ دھرنے کی وجہ سے چین کی سرمایہ کاری تاخیر کا شکار ہوئی۔

وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر اپنے دوست خورشید شاہ کی یاد آ گئی، جو آج اس پل اور موٹر وے کے سنگ بنیاد کی تقریب میں موجود ہوتے تو بڑی خوشی ہوتی، ان سے کہتا ہوں کہ ہم آپ کے علاقے میں پل بنا رہے ہیں اور آپ ہمارے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن میں تو آج بھی آپ کو اپنا دوست ہی سمجھتا ہوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کئی سال پہلے جو خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو رہا ہے، ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھانے کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو چین اور وسطی ایشیا سے ملانے کا منصوبہ ہے، جس کی شاخیں پھیلیں گی اور یہ موٹروے پاکستان کو چین، تاجسکتان، افغانستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ایران کو ملائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1990ء میں پشاور اسلام آباد اور لاہور اسلام آباد موٹروے کا خواب دیکھا تھا، جو مکمل ہوا اور اس موٹروے منصوبے کو کراچی تک پہنچنا تھا، لیکن 1999ء میں ہمیں منصوبہ مکمل کرنے نہیں دیا گیا، اب 2013ء میں پھر موقع ملا، اب تیزی کے ساتھ ادھورا کام پھر شروع کر دیا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف سکھر ایئرپورٹ پہنچے، تو وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور پولیس کے افسران نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وزیراعظم نے سکھر ملتان موٹروے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ 393 کلو میٹر طویل سکھر ملتان موٹروے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت تعمیر کئے جانے والے پشاور کراچی موٹروے منصوبے کا حصہ ہے، چھ رویہ موٹروے ملتان سے جلال پور پیروالہ، احمد پور شرقیہ، اوباڑو اور پنوں عاقل سے گزرتی ہوئی سکھر پہنچے گی۔ موٹروے پر مجموعی طور پر 54 پل تعمیر کئے جائیں گے، جن میں سب سے بڑا پل دریائے ستلج پر تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے میں 12 سروس ایریا، دس ریسٹ ایریا، 11 انٹرچینج ، 10 فلائی اوور اور 426 انڈر پاسز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ موٹروے سے سندھ اور پنجاب کے درمیان تیز ترین نقل و حمل کی سہولت میسر ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 537060
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے