0
Monday 23 May 2016 17:30
آج اسلامی نظام کیخلاف روایتی فوجی جنگ کا امکان بہت کمزور لیکن جہاد باقی ہے

اقتصاد، سیاست، آرٹ اور ثقافت سمیت کسی بھی چیز میں دشمن کی پیروی نہ کرنا جہاد کبیر ہے، رہبر انقلاب اسلامی

اسلامی انقلاب کی اقدار اور نعروں کی حفاظت بھی اس جہاد عظیم کا حصہ ہے
اقتصاد، سیاست، آرٹ اور ثقافت سمیت کسی بھی چیز میں دشمن کی پیروی نہ کرنا جہاد کبیر ہے، رہبر انقلاب اسلامی
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے تہران میں امام حسین کیڈٹ یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد اور سالانہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب میں اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی امور میں دشمن کی پیروی نہ کرنے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امام حسین کیڈٹ یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد اور سالانہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب میں اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی امور میں دشمن کی پیروی نہ کرنے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر خرم شہر جیسے معرکے درپیش ہیں۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے پیر کو امام حسین کیڈٹ یونیورسٹی کی سالانہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب میں، کیڈٹوں کو مخاطب کرکے کہا کہ مستقبل آپ کا ہے اور فتح خرم شہر کی تاریخ کی، اس کی عزت و عظمت کے ساتھ حفاظت آپ کے ذمے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر فتح خرمشہر جیسے معرکے درپیش ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ یہ عظیم فتوحات آپ کو روایتی جنگ کے میدان نہیں بلکہ اس سے بھی ‎سخت جنگوں کے میدانوں میں حاصل کرنی ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر نے اسلامی انقلاب کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے سامراجی محاذ کی گذشتہ اڑتیس سال کی ناکام کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انواع و اقسام کے وسائل سے استفادے اور گوناگوں شازشوں کے باوجود سامراجی محاذ کی ناکامی خدا پر توکل، استقامت اور مجاہدت کی کامیابی کی نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام میدان میں موجود ہیں، لاتعداد نوجوان راہ انقلاب میں فداکاری کے لئے تیار ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو نصرت و قدرت خدا کو جذب کرتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے سامراجی محاذ کے مقابلے میں اس محاذ آرائی کو ارادوں کی جنگ قرار دیا اور کہا کہ اس جنگ میں جس فریق کا بھی ارادہ کمزور ہوا، اس کو شکست ہوگی۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ آج اسلامی نظام کے خلاف روایتی فوجی جنگ کا امکان بہت کمزور ہے لیکن جہاد باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام جہادوں میں ایک جہاد ایسا ہے جس کو خداوند عالم نے جہاد کبیر کہا ہے۔

جہاد کبیر کی تشریح کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ جہاد کبیر کا مطلب یہ ہے کہ اس دشمن کی پیروی نہ کی جائے جو جدوجہد کے میدان میں ہمارے مدمقابل ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اقتصاد، سیاست، آرٹ اور ثقافت سمیت کسی بھی چیز میں دشمن کی پیروی نہ کرنا جہاد کبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی پیروی نہ کرنا اتنا اہم ہے کہ خداوند عالم نے بارہا اپنے پیغمبر کو اس کی یاد دہانی کرائی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام سے سامراجی محاذ کی دشمنی کی اصل وجہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بہت کوشش کرتے ہیں کہ دشمنی کی اصلی وجہ زبان پر نہ لائیں، لیکن بعض اوقات ان کے بیانات میں اس کا اظہار ہو ہی جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک امریکی عہدیدار نے نہ چاہتے ہوئے بھی آئیڈیالوجی یعنی اسلامی تفکر کی طرف اشارہ کیا، جس کے باعث ایرانی عوام محاذ کفر و استکبار کا تسلط اور زور زبرستی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی تاکید کی کہ آج حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ حقائق کو ذہنوں کی گہرائیوں میں اتارنے کو مدنظر رکھیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح اسلامی انقلاب کی اقدار اور نعروں کی حفاظت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی اس جہاد عظیم میں شامل ہے، نعرے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نعروں کے حوالے سے صرف جذبات کے اظہار پر اکتفا کافی نہیں بلکہ ہر کام میں گہرائیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 540549
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے