0
Saturday 4 Jun 2016 14:53

دہشتگردوں کا علاج، ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے رینجرز کے شواہد پر سوال کھڑے کر دیئے

دہشتگردوں کا علاج، ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے رینجرز کے شواہد پر سوال کھڑے کر دیئے
اسلام ٹائمز۔ سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردوں کے علاج کے الزام میں کیس کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے رینجرز کے شواہد پر کئی سوال کھڑے کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف دہشت گردوں کو علاج کی سہولت فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈاکٹر عاصم کے آباؤ اجداد نے ملک بنانے میں کردار ادا کیا، لیکن ان پر دہشت گردوں کا علاج کرنے کا الزام لگایا گیا، بے قصور ہونے کے باوجود انہیں ان ہی کے اسپتال میں ہتھکڑی لگا کر لے جایا گیا، ڈاکٹر عاصم کی جے آئی ٹی رپورٹ میں جو کچھ بتایا گیا، وہ درست نہیں، گرفتاری کے بعد شواہد اکٹھے کرنا عالمی سطح پر قابل اعتبار نہیں، ڈاکٹر عاصم کے خلاف جے آئی ٹی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ جے آئی ٹی میں کئی غلط معلومات فراہم کی گئیں۔

وکل نے کہا کہ ان کے مؤکل کے اسپتال پر غیر قانونی چھاپے مارے گئے، اور ریکارڈ قبضے میں لے کر ردوبدل کیا گیا، کیس کے گواہ یوسف ستار پہلے غائب رہے، اور پھر بیان ریکارڈ کرا دیا، ان کے بیان کے بعد شواہد جمع نہیں کئے گئے، ڈاکٹر یوسف ستار نے بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کا علاج ہوا، مگر ڈاکٹر عاصم کو جب اسپتال لے جایا گیا، تو اس وقت ڈاکٹر یوسف ستار وہاں موجود نہیں تھے، اگر وہ اہم گواہ ہیں، تو انہیں وہاں موجود ہونا چاہئے تھا۔ جے آئی ٹی میں بتایا گیا کہ اسپتال سے 28 دہشت گردوں کے علاج کے بل ملے ہیں، لیکن جن دہشت گردوں کے میڈیکل بل پیش کئے گئے، وہ بھی غلط ہیں، رینجرز کی جانب سے پیش کئے ریکارڈ میں سب سے خطرناک ملزم شیراز کامریڈ کا نام ہے، 2013ء میں شیراز کامریڈ کی عمر 82 سال بتائی گئی ہے، کیا وہ اس عمر میں دہشت گردی کرتا رہا۔
خبر کا کوڈ : 543194
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب