0
Friday 15 Jul 2016 16:12

شام میں سرگرم تکفیری دہشتگردوں کا حتمی انجام شکست اور نابودی ہے، مصری محقق

شام میں سرگرم تکفیری دہشتگردوں کا حتمی انجام شکست اور نابودی ہے، مصری محقق
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مصر کے معروف محقق اور لکھاری محمد یوسف نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں جاری دہشت گردی اسلام دشمن عناصر کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں حال ہی میں عظیم بم دھماکے اس سازش کی گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان دھماکوں نے امریکہ کی سازش میں شامل غدار عراقی سیاست دانوں کے چہروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ محمد یوسف نے کہا کہ جب سے امریکہ، مغربی استعماری طاقتوں، بین الاقوامی صیہونیت، ترکی اور رجعت پسند عرب ریاستوں نے عراق میں جنگ کی آگ لگائی ہے، اس وقت سے اس ملک سے خام تیل چوری کرکے لے جا رہے ہیں۔ عراق دنیا میں خام تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ ان ممالک نے عراق کو توڑ کر چھوٹی چھوٹی نئی ریاستوں میں تبدیل کر دینے کی منحوس سازش بنا رکھی تھی، جس کا مقصد عبری، عربی مفادات کی تکمیل تھا۔" معروف مصری محقق محمد یوسف نے کہا کہ عراقی عوام اور مسلح افواج کو تکفیری دہشت گرد عناصر کے مقابلے میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے، کیونکہ داعش امریکی، اسرائیلی منحوس عزائم کی تکمیل کیلئے کوشاں ہے اور عراق میں مذہبی جنگ پھیلا کر خطے کے اسلامی ممالک کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

محمد یوسف نے مزید کہا کہ اسلام دشمن قوتوں نے عراق کے بعد شام کو تکفیری دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دمشق اور بغداد کو آپس میں متحد ہو کر اسرائیل کے کٹھ پتلی تکفیری دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ یہ تکفیری دہشت گرد عناصر بیگناہ عراقی اور شامی عوام کا خون بہا کر شام اور عراق کو توڑنے کی منحوس سازش پر عمل پیرا ہیں۔ محمد یوسف نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے افریقی ممالک کے دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجرم پیشہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بڑی کوششوں اور ترلوں کے بعد افریقہ جانے میں کامیاب ہوا۔ دریائے نیل پر "سد النھضہ" کی تعمیر صیہونی رژیم کا کام ہے۔ اسی طرح انہوں نے ہی جنوبی سوڈان کو سوڈان سے علیحدہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے دریائے نیل کے کنارے ممالک کو دھمکی دی ہے کہ ان کا پانی بند کر دیں گے۔ ان تمام اقدامات کی وجہ یہ ہے کہ صیہونی عناصر گذشتہ 30 برس سے افریقہ میں سازشیں کر رہے ہیں۔"

معروف مصری محقق نے مزید کہا کہ کیمپ ڈیوڈ کے منحوس معاہدے کے انعقاد کے بعد صیہونی رژیم کی جانب سے خطے کے ممالک کو توڑنے کی سازشوں اور کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ اس دوران عرب امت سے غداری اور خیانت کرنے والے عرب لیڈران کا چہرہ آشکار ہوچکا ہے اور وہ رسوا ہوگئے ہیں۔ اسرائیل اور اس کے پٹھو عرب حکمران خطے میں سرگرم اسلامی مزاحمت کی تحریکوں کے حامی ممالک کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، لہذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی جیسے اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ محمد یوسف نے شام کی صورتحال اور تکفیری دہشت گرد عناصر سے مقابلے کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کے خلاف بنائی گئی سازش کے تحت یہ طے پایا تھا کہ لیبیا میں حکومت کی سرنگونی کے ایک ماہ بعد شام میں بھی صدر بشار اسد کی حکومت سرنگون کر دی جائے۔ لیکن شام آرمی، حکومت اور اس کی حامی قوتوں نے غدار اور خائن عناصر کو کچل کر دشمن کی سازش ناکام بنا ڈالی۔" انہوں نے کہا کہ ہم حالیہ دنوں میں حلب میں تکفیری دہشت گردوں کی پے در پے شکست کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ دہشت گرد عناصر کی حامی قوتوں نے حلب پر دہشت گردوں کے قبضے کی امید لگا رکھی تھی، لیکن اب ان کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ حلب کی آزادی کے بعد شام ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر باقی رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 552785
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب