0
Wednesday 20 Jul 2016 17:30
ملک میں جمہوریت تب آئے گی جب لیڈر عوام کو جوابدہ ہوگا

کرپشن اور پاناما لیکس کے معاملے کیخلاف پی ٹی آئی کا 7 اگست سے ملک گیر تحریک شروع کرنیکا اعلان

کرپشن اور پاناما لیکس کے معاملے کیخلاف پی ٹی آئی کا 7 اگست سے ملک گیر تحریک شروع کرنیکا اعلان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملک میں جاری کرپشن اور پاناما لیکس کے معاملے کیخلاف ملک گیر تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ کرپشن کیخلاف تحریک کا آغاز 7 اگست سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے عوام میں شعور پیدا کریں گے، اس کے بعد دھرنا دیا جائے گا۔ تحریک کیلئے تمام صوبوں میں کمیٹیاں بنیں گی۔ تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ کئی معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ متفق ہیں۔ اگر حکومت ہمارے ٹی او آرز پر کمیٹی بنا دے تو تحریک رک جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل اکاؤنٹبلیٹی بیورو (نیب) نے پاناما لیکس کے معاملے پر ایکشن کیوں نہیں لیا۔؟ نیب کو پاناما لیکس کے بعد شریف خاندان کیخلاف ایکشن لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 25 جولائی کو نیب آفس کے سانے مظاہرہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے عمران خان نے کہا کہ اگر پاکستان میں مارشل لا لگے گا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہوگا۔ ہم پاکستان میں آزاد جمہوریت کیلئے لڑ رہے ہیں۔ تحریک اںصاف آج ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ کیا میں نے گذشتہ 20 سال سے مارشل لا کیلئے جدوجہد کی ہے۔؟

دیگر ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 7 اگست سے حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ نواز شریف 3 مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود لیڈر نہیں بن سکے، انہوں نے 25 جولائی کو نیب کے باہر مظاہرے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ 20 سال تک جمہوری جدوجہد مارشل لاء کے لئے نہیں کی، مارشل لاء آتا تو سب سے زیادہ تحریک انصاف ہی متاثر ہوتی، پہلے عوام میں شعور پیدا کر لیں، پھر دھرنا بھی ہوگا، انہوں نے پیشکش کی کہ ہمارے ٹی او آرز پر کمیٹی بنا دیں، تحریک ختم کر دیں گے۔ عمران خان نے تحریک انصان کی لیگل کمیٹی میں نعیم بخاری کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کسی اور پارٹی میں اتنی آزادی نہیں جتنی تحریک انصاف میں ہے، کسی کو پارٹی سے اختلاف ہے تو پارٹی چھوڑ دے یا چیئرمین کا الیکشن لڑ لے، چیئرمین اور چیئرمین کے نامزد کردہ لوگوں کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کرنے دوں گا، تحریک کے لئے تمام صوبوں میں کمیٹیاں بنیں گی، جدوجہد اور محنت کے بغیر کوئی شخص لیڈر نہیں بن سکتا، کسی بھی لیڈر کی بنیاد صداقت اور امانت پر رکھی جاتی ہے، پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں فوج آئی عوام سڑکوں پر نکل آئے، مارشل لاء سے متعلق بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا، پاکستان میں کسی لیڈر نے 20 سال تک جدوجہد نہیں کی، کیا میں نے 20 سال سے مارشل لاء کے لئے جدوجہد کی، اگر مارشل لا آتا ہے تو سب سے زیادہ تحریک انصاف متاثر ہوگی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کئی معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ متفق ہیں، ہم حقیقی جمہوریت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، پاکستان میں فوج آئی تو مٹھائیوں کی دکانیں خالی ہوگئیں، نیب کو پاناما لیکس کے بعد وزیراعظم کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، نیب بتائے اس نے وزیراعظم کے خلاف انکوائری کیوں نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک گیر تحریک کے لئے فنڈز جمع کرنے شروع کر دیئے ہیں، تحریک انصاف کے 30 لاکھ ممبران ہیں، ہر ممبر سے سو روپے لیں گے، پہلے عوام میں شعور پیدا کریں گے، بعد میں دھرنا بھی ہوگا، ملک میں جمہوریت تب آئے گی جب لیڈر عوام کو جوابدہ ہوگا، واضح ہوگیا کہ حکومت احتساب نہیں چاہتی۔
خبر کا کوڈ : 554253
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے