0
Friday 16 Sep 2016 16:38

مہمند ایجنسی، نماز جمعہ کے دوران مسجد میں خودکش دھماکہ، 5 بچوں سمیت 29 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

مہمند ایجنسی، نماز جمعہ کے دوران مسجد میں خودکش دھماکہ، 5 بچوں سمیت 29 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
اسلام ٹائمز۔ مہمند ایجنسی کی مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہوگئی، واقعے میں 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولٹیکل انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل انبار کے علاقے بٹ مینہ کی مسجد پائے خان کلے میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے میں 5 بچوں سمیت 29 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے۔ واقعے کے 5 شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا، ایک زخمی مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر اسپتال غلنئی جبکہ دیگر زخمی باجوڑ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر اسپتال خار میں زیر علاج ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد میں ہونے والا دھماکہ بظاہر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق مہمند ایجنسی کی تحصیل انبار کے علاقے بٹہ مینہ کی مسجد میں بم دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 23 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دھماکہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران ہوا، جب مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قرب موجود عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا دھماکے میں 23 افراد کی شہادتوں اور 30 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نوید اکبر نے بھی شہادتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران ہوا، جس کے نتیجے میں 23 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ جائے حادثہ سے ابتدائی شواہد جمع کرکے فرانزک لیب منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف امدادی ٹیموں نے حادثے کی جگہ پہنچ کر دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں شہیدوں کے اہل خانہ کے کی آمد کے بعد پوسٹ مارٹم کر کے میتوں کو اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد دیئے جانے کا عمل جاری ہے۔

ادھر صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے نماز جمعہ میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی گئی۔ واضح رہے کہ مہمند ایجنسی افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقے میں وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں سے ایک ہے۔ پاک افغان سرحد پر ان قبائلی علاقوں میں فوج متعدد آپریشنز کرچکی ہے، جس کے بعد یہاں سکیورٹی صورتحال بہتر کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مہمند ایجنسی کے ساتھ واقع خیبر ایجنسی میں گذشتہ 2 برس میں 2 آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو کئے گئے جبکہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا۔ مہمند ایجنسی میں امن کے لئے "امن کمیٹی" بھی بنائی گئی۔ رواں برس مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی کی کمیٹی نے رضاکارانہ طور پر ہتھیار واپس کئے تھے، اس موقع پر امن کمیٹی کے چیف ملک سلطان نے کہا تھا کہ علاقے میں امن قائم ہوچکا ہے۔ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عبداللہ شاہ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انتظامیہ نے پہلی بار سرحدی چوکیوں کی حفاظت کے لئے 300 اہلکار تعینات کئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 567673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش