0
Thursday 29 Sep 2016 02:31

میڈیا انسانوں کو آپس میں لڑوانے سے گریز کرے،انتشار و افتراق اور فرقہ واریت ابلیسی طاقتوں کا کام ہے، مقررین

میڈیا انسانوں کو آپس میں لڑوانے سے گریز کرے،انتشار و افتراق اور فرقہ واریت ابلیسی طاقتوں کا کام ہے، مقررین
اسلام ٹائمز۔ خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران اور پریس کلب کے زیراہتمام راولپنڈی میں "اسلامی معاشرے میں وحدت کیلئے میڈیا کا کردار" کے عنوان سے سمینار کا انعقاد ہوا، جس میں مختلف مکاتب فکر اور اہم سیاسی و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، عصر حاضر میں میڈیا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں نے میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اسلامی معاشرے کو بری طرح نشانہ بنایا۔ وحدت اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کی گئیں۔ اسلامی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ اسلام دشمن میڈیا کو موثر جواب دے اور مسلمانوں کے درمیان وحدت و محبت کے لئے اقدامات اٹھائے۔ میڈیا کی آزادی کی آڑ میں معاشرے کو بے راہ روی کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران راولپنڈی اور پریس کلب کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسلامی معاشرے میں وحدت کے لئے میڈیا کا کردار کے اہم موضوع پر سیمینار پریس کلب راولپنڈی میں منعقد ہوا، جس میں ملی یکجہتی کونسل و جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل ایس یو سی علامہ عارف واحدی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل ثاقب اکبر، علامہ احمد اقبال رضوی، پروفیسر طارق اعجاز، معروف خاتون صحافی نرجس زیدی اور دیگر نے شرکت کی۔

ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ علی نوری نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ میڈیا آج اسلامی معاشرے میں وحدت و اخوت کے سلسلے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے اور موجودہ حالات میں اسلامی معاشرے کو پہلے سے کئی زیادہ وحدت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو امت اسلامی کے اتحاد کے لئے ایک بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کے میڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنا موثر کردار ادا کرے۔ اسلامی اتحاد کے لئے قدم اٹھائیں، دوسروں کے مقدسات کو نشانہ نہ بنائیں، اسلامی وحدت کے لئے انفرادی و اجتماعی طور پر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عصر حاضر میں سیٹلائٹ کے ذریعے اسلام دشمن طاقتیں مختلف طریقوں سے اسلامی معاشرے اور خصوصاً جوانوں کو ہدف بنا رہی ہیں اور ان کے افکار کو تبدیل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ علی نوری نے مطالبہ کیا کہ اس کے مقابل اسلامی معاشرے کے میڈیا کو بھی ان مذموم سازشوں کا راستہ روکنے کے لئے جامع اور مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

منہاج القرآن کے رہنما پروفیسر طارق اعجاز نے کہا کہ میڈیا کو آج معاشرے کی تربیت کا ذمہ لینا چاہیے اور اس روش کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے کہ میڈیا وہی کچھ دکھاتا ہے جو عوام ڈیمانڈ کرتی ہے۔ میڈیا کا کردار بطور معلم بنایا جائے۔ دی نیوز سے منسلک معروف خاتون صحافی نرجس زیدی کا کہنا تھا کہ صحافی کے لئے اہم اور بنیادی عنصر غیر جانبداری ہے، جس کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ مذہبی رپورٹنگ کے لئے صحافیوں کی خصوصی ٹریننگ کی اشد ضرورت ہے، تاکہ معاشرے میں وحدت کو فروغ دیا جا سکے۔ محرم الحرام میں میڈیا کے ذریعے امن و آشتی کا پیغام دینا چاہیے۔ رہنما ملی یکجہتی کونسل و چیئرمین البصیرہ ثاقب اکبر نے کہا کہ انتشار و افتراق اور فرقہ واریت ابلیسی طاقتوں کا کام ہے۔ وحدت و اتحاد کا درس دینے والوں کے ایمان کی گواہی دینی چاہیے۔ میڈیا انسانوں کو آپس میں لڑوانے سے گریز کرے۔ جرائم کی خبروں کو شہ سرخی نہ بنایا جائے۔ میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کو آج اہم ہدف کے تحت کام کرنا ہوگا۔

شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا میڈیا امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں وحدت اسلامی کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن ہمار ے میڈیا پر منفی خبروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ امام خمینی (رہ) اور ابو الاعلٰی مودوی نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے عملی کام کیا۔ آج میڈیا فلسطین میں ہونے والے ظلم کو دکھانے سے کیوں قاصر دکھائی دیتا ہے۔ علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں محب وطن شہریوں کو پھانسی دی گئی، میڈیا نے اس پر اظہار خیال تک نہیں کیا۔ صرف بم دھماکوں اور ذمہ داری قبول کرنے والوں کی خبریں دی جاتی ہیں، جس سے معاشرے میں بدامنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسی خبروں کو بریکنگ نیوز بنانا درست نہیں ہے۔

رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالم اسلام کے رعب اور طنطنہ کو آج عالمی استعمار خاک میں ملانے کے درپے ہے۔ دور نبوت میں بھی ابلاغ کی اہمیت بہت زیادہ تھی اور آج بھی برقرار ہے۔ اسلامی معاشرت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں اہل علم و قلم کی ذمہ داری ہے کہ بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے جوانوں کو مثبت اور صحت مند معاشرے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ شام، عراق، بحرین اور یمن میں ظلم کا خاتمہ صرف وحدت اسلامی سے ممکن ہے۔ آج ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ میں میڈیا پوری طاقت کے ساتھ بے حیائی دکھا رہا ہے۔ جنس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ میڈیا کی آزادی ایسی نہیں ہونی چاہیے، جس سے گھروں میں آگ لگ جائے بلکہ میڈیا کو معاشرتی امن و فلاح کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 571243
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش