0
Wednesday 5 Oct 2016 11:07

مسئلہ کشمیر اور پاناما اسکینڈل پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اے پی سی کی اندرونی کہانی

مسئلہ کشمیر اور پاناما اسکینڈل پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اے پی سی کی اندرونی کہانی
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم کی جانب سے اسلام آباد میں بھارتی جارحانہ عزائم اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے منعقد ہونے والی اے پی سی میں اپوزیشن کی 6 جماعتوں نے حکومت سے پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹی او آرز کے لئے اپوزیشن کے مسودہ کو قانون کی شکل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ موقف تھا کہ حکومت ٹی او آرز پر سنجیدہ نہیں، اپوزیشن نے جو مسودہ تیار کیا ہے، اسے تسلیم کرلینے میں حکومت کو ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی زیر صدارت اے پی سی میں خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ق لیگ نے بالخصوص حکومت کی سفارتی سطح پر ناکامیوں کا برملا اظہار کیا اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں پر نظر ڈالنی چاہیے اور اس کے ازالہ کے لئے کوشش کرنی چاہیے، اپوزیشن حکومت کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری، چوہدری اعتزاز احسن، شاہ محمود قریشی، کامل علی آغا نے خارجہ پالیسی، پاناما لیکس، حکومت اور بالخصوص وزیراعظم کی غیر سنجیدگی پر کھل کر بات کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی او آرز کے لئے اپوزیشن مسودہ جس پر چھ سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے، اسے قانونی شکل دینے کیلئے پارلیمنٹ میں بل لایا جائے، حکومت اس بل کی حمایت کر کے اپوزیشن سے اتفاق رائے کا اظہار کرے، جس طرح اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ پی پی پی، تحریک انصاف اور ق لیگ کا موقف تھا کہ حکومت قومی اور اہم ایشوز پر اپوزیشن کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کر کے یہ پیغام دے کہ سیاسی جماعتیں داخلی اور خارجی سطح پر ایک صفحہ پر ہیں۔
خبر کا کوڈ : 572877
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب