0
Friday 14 Oct 2016 16:53
سعودی اقدام یزید اور شمر کے مجرمانہ اقدامات سے بھی بدتر تھا

یمن کیخلاف سعودی جنگی جرائم میں امریکہ اور برطانیہ برابر کے شریک ہیں، امام جمعہ تہران

گذشتہ 18 ماہ کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بیگناہ یمنی شہید ہوچکے ہیں
یمن کیخلاف سعودی جنگی جرائم میں امریکہ اور برطانیہ برابر کے شریک ہیں، امام جمعہ تہران
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آیت اللہ سید احمد خاتمی نے تہران میں نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے یمن کے خلاف سعودی جنگی جرائم کی مذمت کی۔ انہوں نے حال ہی میں یمن کے دارالحکومت صنعا میں منعقدہ مجلس ترحیم پر سعودی جنگی طیاروں کی بمباری کو وحشیانہ پن اور بربریت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف انجام پانے والے سعودی جنگی جرائم میں امریکہ اور برطانیہ برابر کے شریک ہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ سعودی جنگی طیاروں نے چار بار مجلس ترحیم کو نشانہ بنایا اور 800 کلو وزنی بموں کا استعمال کیا۔ اس بمباری میں 400 بیگناہ یمنی شہری شہید ہوگئے جبکہ بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔ بمباری اس قدر شدید تھی کہ بعض لاشیں جل کر خاکستر بن گئیں اور زخمی ہونے والے اکثر افراد اپاہج ہوگئے۔ امام جمعہ تہران نے کہا کہ یہ سعودی اقدام یزید اور شمر کے مجرمانہ اقدامات سے بھی بدتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کی اس بربریت میں امریکہ اور برطانیہ برابر کے شریک ہیں۔ اس بمباری سے صرف ایک دن پہلے سعودی حکومت اور برطانیہ میں مذاکرات چل رہے تھے، جس میں سعودی عرب نے 50 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ اس حادثے کے بعد برطانوی میڈیا نے جھوٹ کی انتہا کرتے ہوئے شہید افراد کی تعداد 50 بتائی اور اعلان کیا کہ وہ تمام انصاراللہ یمن کے جنگجو تھے۔ خدا برطانیہ کی بوڑھی لومڑی حکومت پر لعنت کرے۔

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ گذشتہ 18 ماہ سے یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت کے دوران امریکہ نے پل کا کردار ادا کیا ہے اور امریکی ڈرون طیارے 24 گھنٹے یمن پر پرواز کر رہے ہیں اور بیگناہ یمنی شہریوں کے قتل عام میں سعودی حکومت کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جنگ کی کمانڈ امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھ میں ہے۔ امام جمعہ تہران نے کہا کہ گذشتہ 18 ماہ کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بیگناہ یمنی شہید ہوچکے ہیں، جن میں ایک ہزار کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔ ہمارا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے یہ سوال ہے کہ کیا یمن میں شہید ہونے والے یہ افراد انسان نہیں تھے؟ اگر تھے تو انسانی حقوق کی تنظیمیں چپ کیوں ہیں؟ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے کہاں ہیں؟ اس قدر وحشیانہ جرائم پر خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ ان کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ ان کیلئے انسان کوئی اہمیت رکھتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق۔ اقوام متحدہ کا سابق بیچارہ اور شرمندہ سیکرٹری جنرل بھی آخرکار بولنے پر مجبور ہوگیا اور مجلس ترحیم پر سعودی بمباری کی مذمت کی اور شہید ہونے والوں کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

امام جمعہ تہران نے کہا کہ میرے عقیدے کے مطابق اقوام متحدہ کا نام تبدیل کرکے "استعماری تنظیم" رکھ دینا چاہئے۔ انہوں نے اقوام عالم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک حقیقی اقوام متحدہ کی تشکیل کیلئے تگ و دو کریں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ جب صنعا میں منعقدہ مجلس ترحیم پر سعودی بربریت وقوع پذیر ہوئی تو 4 دن تک سعودی میڈیا اس کا انکار کرتا رہا اور یہ موقف اپناتا رہا کہ سعودی جنگی طیاروں نے جنگجووں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن جب حقیقت کھل کر سامنے آگئی تو اسے قبول کرنے پر مجبور ہوگیا اور افسوس کا اظہار کرنے لگا۔ اگر آج بین الاقوامی سطح پر کوئی انصاف پسند عدالت موجود ہوتی تو وہ اس وحشیانہ اقدام پر سعودی حکام کیلئے کئی بار سزائے موت کا فیصلہ سناتی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عدالت موجود نہیں، لیکن سعودی حکام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان یزید اور شمر سے بدتر مجرموں کو جان لینا چاہئے کہ عدل الٰہی اور خدا کی عدالت ان کی منتظر ہے۔ اسی دنیا میں مظلوموں کی آہ و فریاد ان کے گریبان گیر ہو جائے گی اور مظلوم کا خون ان کی نابودی کا سبب بن جائے گا۔ ہم ایسے دن کی امید کرتے ہیں جس دن پورا عالمی میڈیا یہ خبر شائع کرے کہ "آل سعود حکومت کا خاتمہ ہوچکا اور آل سعود آل سقوط بن گئی۔"
خبر کا کوڈ : 575331
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے