0
Thursday 3 Nov 2016 00:21

بیلنس پالیسی کے تحت دہشتگردوں کے ساتھ علامہ شیخ محسن نجفی کا نام شیڈول 4 میں شامل کرنا توہین آمیز رویہ ہے، یعقوب شہباز

بیلنس پالیسی کے تحت دہشتگردوں کے ساتھ علامہ شیخ محسن نجفی کا نام شیڈول 4 میں شامل کرنا توہین آمیز رویہ ہے، یعقوب شہباز
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کے نائب صدر و پو لیٹیکل سیکر ٹری محمد یعقوب شہباز کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ علامہ شیخ محسن نجفی کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی وجوہات بتانے سے گریز کررہی ہے، دہشت گردوں کے ساتھ بیلنس پالیسی کے تحت بزرگ علمی شخصیت کا نام شامل کرنا توہین آمیز رویہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا، وطن عزیز پاکستان میں 30 سال سے جاری دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار اہل تشیع ہوئے ہیں، جس میں ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء، صحافی، علماء، عزادار، زائرین سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شہید کئے گئے، جن کا جرم صرف محب وطن پاکستانی ہونا تھا، ہم اس تمام عرصے میں کمالِ صبر کے ساتھ جنازوں پر جنازے اٹھاتے رہے مگر افسوس کہ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے دلخراش سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہماری بہادر افواج نے دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم مستحسن اقدام تھا، مگر بد قسمتی اسے صرف دہشت گردوں کے خلاف استعمال کرنے کی بجائے ظالمانہ بیلنس پالیسی کے تحت دہشت گردوں کے ساتھ کچھ پرامن شہریوں اور علماء جیسی شخصیات کو بھی شامل کر لیا گیا جن کا دہشت گردی سے دور کا بھی تعلق نہ تھا بلکہ ان کی علمی اور سماجی خدمات سب کے سامنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مفسر قرآن، اتحاد بین المسلمین کے داعی، امن کے علمبردار، استادِ العلماء، غریبوں، یتیموں، طلباء اور بے سہارا لوگوں کے مددگار علامہ شیخ محسن علی نجفی کو بیلنس پالیسی کا شکار کیا گیا اور ان کے نام کو بھی فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، جو قابل مذمت اور عدل و انصاف کے قتل کے مترادف اقدام ہے۔
خبر کا کوڈ : 580575
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے