0
Tuesday 15 Nov 2016 16:06

نائیجیریا میں فوج کی بربریت، 100 سے زیادہ عزاداران حسینی شہید، ایران کیجانب سے قتل عام کی شدید مذمت

نائیجیریا میں فوج کی بربریت، 100 سے زیادہ عزاداران حسینی شہید، ایران کیجانب سے قتل عام کی شدید مذمت
اسلام ٹائمز۔ نائیجیریا کے کانو شہر میں شیعہ مسلمانوں پر فوج کی فائرنگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ نائیجیریا کی اسلامی تحریک کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے شیعہ، امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر عراق میں پیدل چل کر کربلا جانے کی سنت حسنہ کی یاد میں کانو سے کادونا تک پیدل چل کر جا رہے تھے کہ اس دوران نائیجیریائی فوجیوں نے امام حسین (ع) کے عزاداروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پیر کو ہونے والے فوج کے اس وحشیانہ حملے میں کم از کم سو شہید اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے نائیجیریا حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر عزاداروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے نائیجیریا میں حسینی عزاداروں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نائیجیریا کے کانو شہر میں عزاداران امام حسین علیہ السلام پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائیجیریا کے شیعہ مسلمانوں پر ایک ایسے وقت اندھا دھند فائرنگ کرنا، جب وہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر عراق میں پیدل چل کر کربلا جانے کی سنت حسنہ کی یاد میں کانو سے کادونا تک پیدل چل کر جا رہے تھے، ایک تشویشناک اور ناقابل قبول امر ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو ہونے والے فوج کے اس وحشیانہ حملے میں کم سے کم سو عزادار شہید اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ واقعے کے ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ فوج نے پرامن عزاداروں کو کانو شہر کے باہر ایک شاہراہ پر گھیر کر نشانہ بنایا ہے اور عزاداروں پر پہلے آنسوگیس کے گولے داغے  پھر براہ راست فائرنگ شروع کر دی۔

کانو شہر میں عزاداروں پر فوج کا یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب نائیجیریا کی فوج نے صوبۂ کاتسینا کے شہر فونتوا میں یوم عاشور کے جلوس پر بھی  فائرنگ کی تھی، جس میں بیس عزادار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے اور فوج نے کادونا میں شیعہ مسجد کا محاصرہ کرکے تحریک اسلامی نائیجیریا کے پندرہ اراکین کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس سے قبل بارہ اور چودہ دسمبر دو ہزار پندرہ کو نائیجیریا کی فوج نے زاریا شہر میں عزاداروں کا قتل عام کیا تھا، جس میں سینکڑوں عزادار شہید ہوگئے تھے، جن میں نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزکی کے تین بیٹے بھی شامل تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نائیجیریا کی فوج کو بے گناہ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی تھی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نائیجیریا کے شیعوں کے ساتھ  اس ملک کی حکومت کا یہ رویہ صیہونی حکومت اور سعودی حکومت کی پالیسیوں کے دائرے میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 584109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب