0
Saturday 17 Dec 2016 20:25

طویل المدتی جدوجہد کیلئے کشمیری عوام خود کو تیار رکھیں، میرواعظ عمر فاروق

طویل المدتی جدوجہد کیلئے کشمیری عوام خود کو تیار رکھیں، میرواعظ عمر فاروق
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے پوری قوم کو ایک طویل المدتی جدوجہد کیلئے خود کو تیار کرنا ہوگا اور کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت قوم کے ہر مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اور ان کا اعتماد حاصل کرکے سال بھر کیلئے جو احتجاجی پروگرام قوم کے سامنے رکھے گی اس پروگرام پر مکمل عمل آوری سے نہ صرف پوری دنیا میں کشمیریوں کی آواز کو سنا جائیگا بلکہ اس طویل المدتی جدوجہد سے ہم ایک ہمہ گیر انقلاب لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ’’ہفتہ وحدت‘‘ کی مناسبت سے تاجدار انبیاء حضرت رسول اکرم (ص) کے تئیں گلہائے عقیدت پیش کرنے اور آپ (ص) کی عظیم تعلیمات کی دور حاضر میں اہمیت و افادیت کے پیش نظر انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے زیر اہتمام سرینگر میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت کے فرائض انجمن اوقاف کے صدر اور کل جماعتی حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی عمر فاروق نے انجام دی۔ قابض فورسز کی جانب سے رکاوٹوں اور قدغنوں کے باوجود مجلس میں عاشقان رسول اکرم (ص) کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ اس موقعہ پر مولانا محمد عباس انصاری، بزرگ مزاحمتی رہنما سید علی گیلانی کے نمائندے پیر سیف اللہ، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کے نمائندے شیخ عبدالرشید کے علاوہ مولانا ایم ایس رحمن شمس، مولوی محمد یاسین وغیرہ نے سیرت النبی (ص) پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظ عمر فاروق نے پیغمبر اسلام (ص) کی انسان ساز ذات اقدس کو ہر دور کے انسان کیلئے نمونہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج امت مسلمہ کو جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے اور عالم اسلام کے کئی ممالک جن میں شام، عراق، افغانستان، یمن اور جموں و کشمیر جیسے علاقے شامل ہیں میں خونریزی اور قتل و غارتگری کا سلسلہ جاری ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عالم اسلام میں رہ رہے کروڑوں مسلمانوں نے اُس عظیم اسوۂ حسنہ کو پس پشت ڈال رکھا ہے جو ان کی نجات اور مسائل کے حل کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عالم اسلام اپنے اندرونی مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنے کا تہیہ نہیں کر لیتا مسلمانوں کو درپیش مسائل سے نہ صرف چھٹکارا حاصل نہیں ہوگا بلکہ اسلام دشمن قوتیں اُنکی آپسی چپقلش اور اختلافات کا فائدہ اٹھا کر ان کو مزید دباتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اُمت صرف اُسی صورت میں شان رفتہ کو بحال اور عظمت و وقار حاصل کرسکتی ہے جب یہ پیغمبر اسلام (ص) کی ذات اقدس کے ساتھ خود کو وابستہ اور منسلک کرسکے اور آپ (ص) کے عظیم اسوۂ حسنہ کو اپنے لئے معیار بنائے۔ میرواعظ عمر فاروق نے رواں جدوجہد آزادی کشمیر کے تئیں عوام کے تمام طبقوں خاص طور پر نوجوانوں کی قربانیوں کو لامثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد 1931ء سے چل رہی ہے اور اب اس جدوجہد کے ساتھ کشمیریوں کی پانچویں نسل منسلک ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کیلئے پوری قوم کو ایک طویل المدتی جدوجہد کیلئے خود کو تیار کرنا ہوگا اور کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت قوم کے ہر مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اور ان کا اعتماد حاصل کرکے سال بھر کیلئے جو احتجاجی پروگرام قوم کے سامنے رکھے گی اس پروگرام پر مکمل عمل آوری سے نہ صرف پوری دنیا میں کشمیریوں کی آواز کو سنا جائیگا بلکہ اس طویل المدتی جدوجہد سے ہم ایک ایسا ہمہ گیر انقلاب لانے میں کامیاب ہوجائیں گے جو ہماری تحریکِ حقِ خودارادیت کی کامیابی پر منتج ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قربانیوں اور اس تحریک کی حفاظت کیلئے مشترکہ قیادت کے پروگرام کو کامیاب بنائیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ آج کے اس دینی نوعیت کے سیرتی پروگرام کو ناکام بنانے کیلئے حکومتی سطح پر ہر طرف قدغنیں اور رکاوٹیں ڈالی گئیں، مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی اور محمد یاسین ملک کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس پروگرام میں طاقت کے بل پر شرکت سے روکنے کی مذموم کوشش کی گئی لیکن ان عناصر کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا کی ایک بڑی طاقت کے خلاف کشمیریوں کا جذبہ مزاحمت نہ ماضی میں ان حربوں سے کمزور ہوا ہے اور نہ حصول مقصد تک اس قوم کے عزم اور حوصلے کو ایسے جابرانہ حربوں سے دبایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اور اسکی ریاستی اتحادی یہاں کے نوجوانوں پر ظلم و تشدد کرکے ان کو جان بوجھ کر تشدد کے راستے پر دھکیل رہی ہے اور ان کے جذبہ مزاحمت کو کچلنے کیلئے ہر غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے لیکن جتنی شدت کے ساتھ اس جذبہ مزاحمت کو دبانے کی کوشش کی جائیگی اتنی ہی شدت کے ساتھ یہ جذبہ مزید ابھرتا جائیگا۔

میرواعظ عمر فاروق نے ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ اور’’ جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے‘‘ کے فلک شگاف نعروں کے بیچ اعلان کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی پوری مزاحمتی قیادت نہ صرف اپنے کاز کے تئیں committed ہے اور کشمیریوں کے خون سے مزین تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے قیادت کی جانب سے جو پروگرام قوم کے سامنے رکھا جائیگا اُسکو کامیاب بنانے کیلئے ماضی کی طرح پوری قوم کا تعاون اور وابستگی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہفتہ وحدت کی اس تقریب سے خطاب میں سینئر مزاحمتی رہنما مولانا محمد عباس انصاری نے پیغمبر اسلام (ص) کی ذات اقدس اور ان کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کو مسلمانوں کے جملہ مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام (ص) پوری بنی نوع انسان کیلئے رحمت بن کر آئے ہیں اور امت کو بھی پیغمبر اسلام (ص) کے احسانوں کا ادراک کرتے ہوئے اس عظیم ذات اقدس کے ساتھ اپنے تمسک کو مستحکم کرنا چاہئے۔ پیر سیف اللہ نے رسول رحمت (ص) کی سیرت اور تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے اور رواں جدوجہد آزادی کشمیر کو آگے بڑھانے کیلئے رسول پاک (ص) کی پیروی کو ناگزیر قرار دیا۔ اس دوران شیخ عبدالرشید نے سیرتی مجالس کے انعقاد کو کردار سازی کیلئے ایک اہم وسیلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ سیرتی محفل سے یہ پیغام اہلیانِ کشمیر کو جارہا ہے کہ ہم ہر قیمت پر اسوۂ رسول (ص) کو اپنانے کا عزم اور عہد کریں۔
خبر کا کوڈ : 592392
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش