0
Friday 10 Feb 2017 15:30
ایرانی عوام سے صرف احترام اور شرافت کے دائرے میں ہی بات ہوسکتی ہے

ایران ایک طاقتور ملک ہے اور کوئی بھی اسکی جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ڈاکٹر حسن روحانی

ایران کے عوام اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایک لمحے کیلئے بھی اپنے راستے سے منحرف نہیں ہوئے
ایران ایک طاقتور ملک ہے اور کوئی بھی اسکی جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کے عوام اسلامی انقلاب کی حمایت، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور رہبر انقلاب اسلامی کی امنگوں کی تکمیل کے راستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں بٹیں گے۔ ایرانی صدر نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کی مناسبت سے نکالی گئی ریلیوں کے بعد تہران کے معروف آزادی اسکوائر پر منعقدہ جشن آزادی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب، ایران کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے، جس نے ملک کو اغیار اور امریکہ سے وابستگی سے نجات دلائی اور ایرانی عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی انقلاب دنیا کا وہ پہلا انقلاب ہے، جس کے عوام نے انقلاب کی کامیابی کے دو مہینے سے بھی کم عرصے میں پولنگ اسٹیشنوں پر جاکر اپنی مرضی کے نظام حکومت کا انتخاب کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ علاقے کے بعض ممالک اور امریکہ میں جن لوگوں نے ابھی حال ہی میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ہے، ان کو یہ جان لینا چاہئے کہ ایرانی عوام سے صرف احترام اور شرافت کے دائرے میں ہی بات کرسکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی وہ ایسا کرنا چاہتا ہے، کہا کہ ایران کے بدخواہوں کو چاہئے کہ وہ ایران اسلامی کو میلی آنکھ سے دیکھنے سے باز رہیں، کیونکہ ایران ایک طاقتور ملک ہے اور کوئی بھی ایران کی جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کے عوام اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایک لمحے کے لئے بھی اپنے راستے سے منحرف نہیں ہوئے اور انہوں نے عالمی سطح پر خطرے اور دھمکی آمیز صورتحال کو امن و صلح میں تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے آئی آر آٹھ سینٹری فیوج مشینوں تک ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی رسائی کے بارے میں کہا کہ گذشتہ برس تک ایران کی ترقی و پیشرفت کے دشمن ایک گرام یلو کیک بھی ایران آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے، لیکن ابھی حال میں تین سو پچاس ٹن یورینیم اور یلو کیک ایران میں درآمد کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 608302
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے