0
Friday 17 Feb 2017 22:22

علامہ تصور نقوی پر قاتلانہ حملے کیخلاف مظفرآباد میں تمام مکاتب فکر کے افراد کا پرامن احتجاجی دھرنا

علامہ تصور نقوی پر قاتلانہ حملے کیخلاف مظفرآباد میں تمام مکاتب فکر کے افراد کا پرامن احتجاجی دھرنا
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی پر قاتلانہ حملے کیخلاف ریاستی دارالحکومت میں تمام مکاتب فکر اور زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے سہیلی سرکار چوک میں پُرامن احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین نے علامہ جوادی پر حملے کو کسی فرقہ کے بجائے آزاد کشمیر کے امن پر وار قرار دے دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ ہمیں اس وقت ریاست کی وحدت کے لئے اور آزادکشمیر کے اندر مکمل مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے اندرونی اور بیرونی دشمن کی سازشوں کو اپنی یکجہتی، بے مثال اتحاد اور اتحاد بین المسلمین کے ذریعے ناکام بنانا ہوگا۔ بند کرو بند کرو، دہشتگردی بند کرو، کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ احتجاجی دھرنا سے، علامہ ناصر عباس جعفری سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان، علامہ سید کفایت حسین نقوی، سید شبیر حسین بخاری، نذیر حسین شاہ، مسلم کانفرنس کے رہنما سید مرتضٰی گیلانی، سید یاسر نقوی، تصور موسوی، راجہ ثاقب مجید، کامران بیگ، اصغر نثار میر، سہیل مغل صدر پریس کلب، راجہ آفتاب احمد خان صدر سنٹرل بار، تاجر رہنمائوں عبدالرزاق، میر امتیاز احمد، راجہ فرخ ممتاز مسلم لیگ نون، افضال سلہریا یو کے پی این پی، پیپلزپارٹی کے میڈیا ایڈوائز شوکت جاوید میر، سید شائق گیلانی، محترمہ سمعیہ ساجد، محترمہ عندلیب صابر ناظمہ آئی او، احسن کاظمی، سید شجاعت علی کاظمی، جعفریہ سپریم کونسل جموں و کشمیر کے سینئر وائس چیئرمین علامہ سید فرید عباس نقوی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ناصر عباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی، مرکزی رہنما محمد اصغر عسکری، مرکزی رابطہ سیکرٹری ملک اقرار حسین نے خطاب کیا۔

اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اور انتظامیہ کیلئے سوالیہ نشان ہے کہ وہ ابھی تک قاتلانہ حملہ کرنیوالوں کیخلاف کسی بھی موثر کارروائی میں ناکام نظر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشتگردی ہے اور اس دہشتگردی کیخلاف پوری ریاست اکٹھی ہے، ہم دہشتگردوں کے عزائم کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آزاد کشمیر کے اندر اس وقت تمام مکاتب فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور یہ کارروائی انہی ملک دشمنوں کی گھنائونی حرکت ہے کہ جو اس وقت ریاست پاکستان کی سالمیت اور افواج پاکستان ہمارے حساس اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، علامہ جوادی نے کبھی بھی فرقہ واریت کے حوالہ سے بات نہیں کی، وہ سب کیلئے انتہائی شفقت اور پیار محبت کا رشتہ رکھتے تھے، انہوں نے ہمیشہ اپنے خطابوں میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک دشمن عناصر جو اتحاد بین المسلمین کیخلاف سازشیں کر رہے ہیں، اُن کے عزائم ناکام بنانے کیلئے ہم سب کو اکٹھا ہونا ہوگا۔ احتجاج کے آخر میں علامہ جوادی اور اُن کی اہلیہ کی صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔

مرکزی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے آج سے پاکستان اور ریاست بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ علامہ تصور حسین نقوی الجوادی پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے، سید تصور حسین نقوی الجوادی محبت، وحدت، اتحاد، بھائی چارے، وطن دوستی کی آواز تھے، اُن پر گولیاں چلانے والوں نے ریاست کی وحدت پر حملہ کیا ہے اُ ن کی اہلیہ کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، غیر مند کبھی عورت پر ہاتھ نہیں اُٹھتے، 8 سال قبل مرکزی امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا اور آج ایک بار پھر دہشتگردوں نے محب وطن سکالر کو نشانہ بنایا ہے، دہشتگردی کے یہ سارے واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں، ریاست کا اصل باشندہ کبھی اسطرح کی حرکت نہیں کرسکتا، دہشتگردی کا یہ واقعہ گھس بیٹھیوں اور پالے ہوئے دہشتگردوں کی کارروائی ہے، ہم پرامن لوگ ہیں، اداروں نے اگر اسطرح کی کارروائیاں نہ روکی تو دہشتگرد ملک دشمن ریاست کو برباد کر دیں گے، یہ کون لوگ ہیں، کیا ریاستی ادارے اور ایجنسیاں ان کی شناخت نہیں رکھتیں؟، اُن کیخلاف کارروائی نہ ہونا افسوس کا مقام ہے، ریاستی عوام کو دہشتگردوں کے خلاف متحد ہو کر صدائے احتجاج بلند کرنا ہوگی۔

مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان آزاد کشمیر علامہ تصور حسین نقوی الجوادی پر دن دیہاڑے حملہ کیا گیا، مظفر آباد چھوٹا سا شہر ہے، حملہ آور دہشتگردوں کا بچ کر فرار ہونا سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، یہ سکیورٹی اداروں کی غفلت ہے یا نالائقی کا نتیجہ ہے، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کیخلاف اور ریاست میں امن کے قیام کے حق میں پاکستان بھر اور آزاد کشمیر بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائیگا، اگر ہم احتجاج نہ کرتے تو آج گلی محلوں میں دہشتگردوں کا راج ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اچانک سے پاکستان میں اور آزاد کشمیر میں تسلسل سے دہشتگردی کے واقعات ہونا بڑے خطرے کی علامت ہے، ادارے سب جانتے ہیں دہشتگردوں کیخلاف موثرکارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مظفر آباد کے عوام کا اتحاد یکجہتی دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں، مظلوم کشمیریوں کو اُن کا حق دیا جائے، مسئلہ کشمیر حل کیا جائے، جس جدوجہد میں نہتے عوام کا خون شامل ہو وہ جدوجہد ضرور رنگ لاتی ہے، بھارتی حکومت ایک قاتل، ظالم، بے رحم اور وحشی حکومت ہے، وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کی جدوجہد رنگ لائے گی۔
خبر کا کوڈ : 610499
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب