0
Thursday 16 Feb 2017 08:04
اسرائیل کا امریکہ اور صدر ٹرامپ سے بڑا کوئی حامی نہیں ہے، نیتن یاہو

ایران کیساتھ ہونیوالا ایٹمی معاہدہ ان بدترین معاہدوں میں سے ہے، جو میں نے آج تک دیکھے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کیساتھ ہونیوالا ایٹمی معاہدہ ان بدترین معاہدوں میں سے ہے، جو میں نے آج تک دیکھے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ترامپ نے واشنگٹن میں صھیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر شدید تنقید کی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق امریکی صدر اور صھیونی وزیر اعظم نے جمعرات کے دن وائٹ ہاوس میں ہونے والی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف اپنے ہمیشگی موقف کو دہرایا اور ایران کے خطرہ سے نمٹنے کی قسم کھائی۔ اس پریس کانفرنس کے آغاز میں ٹرامپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو "ایٹمی ایران" سمیت بہت سے خطرات در پیش ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کا ایٹمی معاہدہ، ان بدترین معاہدوں میں سے ایک ہے، جو میں نے آج تک دیکھے ہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ میری حکومت نے ایران کے خلاف کچھ پابندیں لگائی ہیں اور اس کے بعد بھی ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لئے مزید اقدامات کئے جائینگے۔ اپنی گفت و گو کے آغاز میں صھیونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا امریکہ سے اور امریکہ کا اسرائیل سے بہتر کوئی اتحادی نہیں ہے۔ صھیونی وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ ٹرامپ کی قیادت میں، اسلامی انتھا پسندی کے ساتھ مقابلہ کی کوششیں مزید مضبوط ہو جائینگی۔ ٹرامپ نے اس سوال کے جواب میں کہ قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلین کے استعفٰی سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ اور اسرائیل کی طرف سے یہودی بستیاں تعمیر کرنے پر کیا اثرات مرتب ہونگے، امریکی صدر نے فلین کو مرد بزرگ کہا اور دعویٰ کیا کہ میڈیا نے فلین ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔

انہوں نے اس جابہ جایی کے ایٹمی معاہدہ پر ہونے والے اثرات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔ امریکی حکومت کے سربراہ نے اپنی گفت و گو کے ایک دوسرے حصے میں اس سوال کے جواب میں اشارتاً کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان موجود بحران کے حل کے لئے دو ریاستی حل کے علاوہ ایک ریاستی حل کی بھی حمایت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دو ریاستی اور ایک ریاستی حل کے بارے میں مکمل چھان بین کر رہا ہوں اور دونوں طرفیں جس حل کو پسند کرینگے، میں بھی وہی پسند کرونگا۔ ٹرامپ نے مزید کہا کہ ایک مدت کے لئے میں نے سوچا کہ دو ریاستی حل زیادہ سادہ ہے اور کہنے لگا کہ اس بارے میں میرا فیصلہ اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرہ کنندگان کے فیصلہ کے تابع ہوگا۔ امریکی صدر نے اپنے بیانات کے ایک دوسرے حصہ میں کہا کہ اسرائیل کو چاہئے کہ شھرک سازی کے معاملہ میں تھوڑی سی لچک کا مظاہرہ کرے۔ اسی طرح امریکی سفارتخانہ قدس منتقل کرنے کے بارے میں سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ میں ایسا اقدام کرنے کی طرف بہت مائل ہوں۔  ٹرامپ نے کہا کہ میں انتہائی دقت کے ساتھ اس معاملہ کے بارے میں تحقیقات کروں گا۔

صھیونی وزیر اعظم نے اس سوال کے جواب میں کہ وہ ایران کے حوالہ سے نئی امریکی حکومت سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟ اپنی گفت و گو کے ابتدا میں صھیونی وزیر اعظم نے ٹرامپ کی طرف سے ایران کے خلاف گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کئے جانے والے اقدامات کی تعریف کی اور پھر اپنے ہمیشہ کئے جانے والے دعووں کی تکرار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرامپ نے اپنی حکومت سنبھالنے کے بعد سے چند ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف بہت اہم اقدامات کرنے کے حوالے سے رہنمائی کی ہے۔ اس نے بیلسٹک میزائل کے حوالے سے ایرانی خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کیا اور مزید کہا کہ میزائل پروگرام کے حوالہ سے ایران کو چیلنج کرنا، حزب اللہ اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنا، ٹروریزم جسکا وہ ارتکاب کر رہے ہیں، اسکی انہیں قیمت چکانا، یہ وہ تبدیلیاں ہیں، جو نئے امریکی صدر ٹرامپ کے بر سر اقتدار آنے سے کاملاً نمایاں ہیں اور میں ان اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ صیہونی وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرینگے تو نہ صرف امریکہ اور اسرائیل بلکہ بہت سے دوسرے ممالک جو کہ ایران جیسے بڑے خطرہ کے بارے میں ہم خیال ہیں، ہم سب مل کر ایران کے خطرہ اور اس کے جارحانہ عزائم کو روک سکتے ہیں۔

نیتن یاہو نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ معاملہ اسرائیل اور عرب ممالک کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے، مزید کہا کہ اس موضوع کی امریکہ کے لئے بھی نہایت اہمیت ہے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بین البر اعظمی میزائل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ایٹمی ہتھیاروں تک دسترسی حاصل کرنا چاہتے ہیں، نہ صرف ایک بمب بلکہ سینکڑوں بمب بنانا چاہتے ہیں۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ صلاحیت موجود  ہو کہ وہ ان ایٹمی بمبوں کو کرہ زمین کے ہر نقطے اور بلاخر امریکہ پر فائر کر سکیں۔ صھیونی وزیر اعظم نے دوبارہ تاکید کی کہ میں اس تبدیلی کا خیر مقدم کروں گا، انہوں نے کہا کہ اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے میں امریکہ کے ساتھ پوری طرح تعاون کروں گا۔ صہیونی وزیراعظم نے اپنے بیانات کے آخر میں کہا کہ اسرائیل کا امریکہ اور صدر ٹرامپ سے بڑا کوئی حامی نہیں ہے۔  
خبر کا کوڈ : 610756
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب