0
Wednesday 1 Mar 2017 14:41

مولانا طاہر اشرفی برطرف، زاہد محمود قاسمی پاکستان علماء کونسل کے نئے چیئرمین منتخب

مولانا طاہر اشرفی برطرف، زاہد محمود قاسمی پاکستان علماء کونسل کے نئے چیئرمین منتخب
اسلام ٹائمز۔ تفصیلات کے مطابق، پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس 28 فروری کو جامعہ قاسمیہ فیصل آباد میں ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے 500 سے زائد علماء نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال اور جماعتی امور پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں لاہو، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور درگاہ سیہون شریف سمیت ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کی گئی۔ اسلام بےگناہ انسانیت کے قتل عام کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ علماء نے فیصلہ کیا ہے کہ آپریشن ردالفساد جس کا آغاز پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا ہے اس کو منبر و محراب سے کامیاب بنائیں گے۔ علماء نے عہد کیا ہے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور ملک کی سلامتی اور استحکام کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے پاکستان علماء کونسل کے زیراہتمام ملک بھر میں خصوصاً پنجاب کے تمام ڈویژن میں علماء امن کنونشنز منعقد کئے جائیں گے۔ علماء نے اس عزم کا اظہار کیا ہے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے اس وطن عزیز کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اسلام اور پاکستان کے پرچم کو کبھی بھی سرنگوں نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مولانا طاہراشرفی کو چیئرمین کے عہدہ اور پاکستان علماء کونسل کی ذیلی تنظیموں (وفاق المساجد پاکستان )، (علم وامن فائونڈیشن)، (تحفظ مدارس دینیہ پاکستان) کی بنیادی رکنیت ختم کرتے ہوئے تمام عہدوں سے ہٹا دیا ہے اور نئے چیئرمین صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی کو منتخب کر دیا ہے۔ دریں اثناء پاکستان علماء کونسل کے نو منتخب چیئرمین صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے دیگر ارکان شوریٰ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے ذریعے مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل کے دستور کی شق نمبر 7 دفعہ نمبر 11 کے مطابق کونسل کا نظام شورائی ہے اور شوریٰ یہ حق رکھتی ہے کہ چیئرمین اور عہدیداران کا انتخاب و تبدیلی اکثریت ارکان کی رائے سے کی جائے گی۔ سب سے پہلے پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے تمام علماء کا میں مشکور ہوں جنہوں نے مجھ ناچیز پر یہ بھاری ذمہ داری عائد کی ہے اس پر میں تمام علماء کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ پاکستان علماء کونسل توحید وسنت اور دین کے صحیح راستے پر چلتے ہوئے ملک میں قیام امن اور ملک کی سلامتی اور استحکام کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ چونکہ علماء کونسل کے سابقہ چیئرمین داخلی اور خارجی امور میں فرد واحد فیصلے صادر کرتے تھے اور ان فیصلوں میں ارکان شوریٰ کی رائے شامل نہ ہوتی تھی۔ بعض مصدقہ حقائق اور شواہد سامنے آئے ہیں جس میں کونسل کے سابق چیئرمین نے غیر ملکی معاہدے کئے ہیں جو کہ سراسر اسلام اور پاکستان علماء کونسل کے دستور اور نصب العین کے خلاف ہیں۔ علماء کونسل کے دستور کی دفعہ نمبر 5 میں یہ بات واضح ہے کہ کونسل اپنی جدوجہد کو خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں چلائے گی جس کے مطابق سابقہ چیئرمین مولانا طاہر اشرفی ارکان شوریٰ کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

نومنتخب چیئرمین نے کہا کہ دستور کی شرائط رکنیت کی دفعہ نمبر 6 شق نمبر 8 کے مطابق کونسل کی اکثریت ان پر مطمئن نہیں ہے۔ پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ نے موجودہ جماعتی دستور، منشور اور کونسل کے تمام عہدیداران کے اختیارات اور جماعتی طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نیا دستور و منشور بنانے کیلئے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا ہے کہ مرکزی مجلس شوریٰ نے پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ملک کی دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ رابطے اور معاملات کو از سر نو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر اہتمام اپریل میں ہونے والے تین روزہ صد سالہ عالمی اجتماع کو کامیاب بنانے اور شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان علماء کونسل کے زیراہتمام 12 اپریل کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہونے والی دوسری سالانہ ''پیغام اسلام کانفرنس ''کو ملتوی کرنیکا کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان علماء کونسل کے زیراہتمام بہت جلد اسلام آباد میں تحفظ ناموس رسالت ۖ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی۔ پاکستان علماء کونسل کی ذیلی تنظیموں وفاق المساجد پاکستان اور تحفظ مدارس دینیہ پاکستان کے بارے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

مرکزی مجلس شوریٰ نے پاکستان علماء کونسل کے داخلی اور خارجی امور کا از سرنو جائزہ لینے اور آئندہ سے ارکان شوریٰ کی مشاورت سے تمام امور چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر مولانا محمد رفیق جامی، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا عبد الحمید وٹو، مولانا عبید الرحمن ضیا، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا شبیر احمد عثمانی، حافظ محمد امجد، قاضی مطیع اللہ، قاضی کفایت اللہ، مولانا زبیر عابد، مولانا عثمان بیگ فاروقی، مولانا سلطان محمود ضیا، مولانا عبد الرائوف چشتی، مولالانا تاج محمود ریحان، مفتی وحید احمد سواتی، مولانا نعمان حاشر، مولانا عبد الحمید صابری، مولانا محمد مشتاق لاہوری، مولانا اسید الرحمن، مولانا محمد احمد ندیم، مولانا عبد العلیم حقانی، مولانا عبد الحکیم، مولانا رسال الدین آزاد، مولانا فہیم الحسن، قاری وقار عثمانی، مولانا مبشر حضور، مفتی سید احمد، مولانا شکیل قاسمی، مولانا حسان صدیقی،مولانا محمد نواس،مولانا سید عبد الشکور شاہ،مولانا حق نواز خالد ،مفتی احمد علی،مولانا حبیب الرحمن عابد،قاری عصمت اللہ معاویہ،مولانا اعظم فاروق و دیگر موجود تھے۔
خبر کا کوڈ : 613955
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب