0
Tuesday 11 Apr 2017 18:33

امریکی میزائل حملوں کا جواب وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، علی عبداللہ الاحمد

امریکی میزائل حملوں کا جواب وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، علی عبداللہ الاحمد
اسلام ٹائمز۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق شام کے سابق وزیر اطلاعات کے سیاسی مشیر علی عبداللہ الاحمد نے شام کے مرکز میں واقع الشعیرات ایئربیس پر امریکی میزائل حملوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "الشعیرات ایئربیس پر امریکہ کے میزائل حملوں کو تین مختلف پہلووں سے دیکھا جا سکتا ہے جن میں داخلی اثرات، علاقائی اثرات اور بین الاقوامی اثرات شامل ہیں۔ شام کی عوام متعدد بحرانوں سے عبور کر چکی ہے اور امریکی حکام اس سے پہلے بھی دیر الزور کے علاقے میں بعض مقامات کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم بھی اب تک شام حکومت کے مختلف فوجی ٹھکانوں پر بمباری کر چکی ہے۔ اسی بنیاد پر میں تاکید کرتا ہوں کہ ملت شام ہر گز ایسے حملوں کے باعث سرتسلیم خم نہیں کرے گی اور شام کی مسلح افواج بھی ان حملوں سے سبق اور تجربہ حاصل کرے گی۔"

علی عبداللہ الاحمد نے مزید کہا کہ یہ حملے امریکہ میں نئے صدر کے برسراقتدار آنے کے بعد انجام پائے ہیں جن سے شام کی عوام کو منفی پیغام ملا ہے لیکن اس کے باوجود ہماری قوم کے حوصلے انتہائی بلند ہیں۔ میں زور دے کر کہتا ہوں کہ ان حملوں کا مقصد صرف شام کو ہی نقصان پہنچانا نہ تھا اور اسی وجہ سے میں ان حملوں کے بین الاقوامی اثرات کی جانب بھی اشارہ کروں گا۔ انہوں نے امریکی میزائل حملوں کے علاقائی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: "درحقیقت امریکی حکام نے ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران تقاریر میں واضح طور پر کہہ چکے تھے کہ ان کا اصلی مقصد ایران کو دھچکہ پہنچانا ہے لہذا وہ امریکہ سمیت چھ مغربی ممالک اور ایران کے درمیان انجام پائے جوہری معاہدے کے خلاف ہیں۔"

شام کے سابق وزیر اطلاعات کے سیاسی مشیر نے الشعیرات ایئربیس پر امریکی میزائل حملوں کا بین الاقوامی پہلو بیان کرتے ہوئے کہا: "امریکی میزائل حملوں کے بین الاقوامی پہلو کے متعلق اس نکتے کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقاریر کے دوران روس سے تعلقات میں بہتری کا امکان ظاہر کیا تھا۔ امریکہ اور روس کے تعلقات میں بہتری کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ امریکہ ایران پر دباو ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا لہذا بعض قوتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر شام کے خلاف میزائل حملے کیلئے دباو ڈالا۔ یہ دباو خاص طور پر اس وقت زیادہ ہو گیا جب کچھ ہفتے پہلے شام کے اسی ایئربیس سے اسرائیلی جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔"

علی عبداللہ الاحمد نے شام اور اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے امریکی میزائل حملوں کے ممکنہ جواب کے بارے میں کہا: "شام کی جنگ علاقائی اور بین الاقوامی سطح کی ہے لہذا الشعیرات ایئربیس پر امریکی میزائل حملوں کا جواب بھی وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔ اس حملے کا اہم ترین جواب شام میں سعودی عرب، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گردوں کے خاتمے کی صورت میں دیا جائے گا۔ دوسرا جواب ان اسرائیلی حملوں کو روک کر دیا جائے گا جو وہ حزب اللہ اور ایران کو نشانہ بنانے جیسے مختلف بہانوں سے شام کی سرزمین پر انجام دیتا رہتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "جنگ، ٹیبل ٹینس کے کھیل جیسا نہیں کہ مدمقابل کا جواب فوراً دیا جائے، بلکہ شطرنج کے کھیل کی مانند ہے جس میں دونوں کھلاڑی مکمل سکون اور سوچ بچار کے بعد اقدام انجام دیتے ہیں۔ یوں، اسلامی مزاحمتی بلاک اپنے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے"۔ علی عبداللہ الاحمد نے آخر میں کہا: "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس قسم کے اقدامات سے خود کو جارج بش جیسا ظاہر کرنا چاہتے ہیں لہذا ایسے احمقانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں لیکن میری نظر میں یہ مسئلہ انتہائی خطرناک ہے اور ہم اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ان میزائل حملوں کا نشانہ صرف شام نہیں تھا بلکہ تمام اسلامی مزاحمتی بلاک اور حتی چین اور روس جیسے ممالک کو بھی پیغام دینا مقصود تھا۔"
خبر کا کوڈ : 626839
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش