0
Friday 21 Apr 2017 00:53

امریکی وزیر دفاع کیجانب سے ایران کیخلاف بنائے جانیوالے سعودی فوجی اتحاد کا خیرمقدم

امریکی وزیر دفاع کیجانب سے ایران کیخلاف بنائے جانیوالے سعودی فوجی اتحاد کا خیرمقدم
 اسلام ٹائمز۔ امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے وسطی ایشیا اور اس کے اطراف کے خطوں میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو شکست دینے کے لئے سعودی کوششوں کو سراہا ہے۔ واشنگٹن میں موجود امریکی محمکہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تدارک کے لئے بنایا جانے والا مسلم ممالک کا اتحاد ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہا ہم دیکھ رہے ہیں کہ خطے کے ممالک ایران کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹ اور عدم استحکام کی روک تھام کی کوشش کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق سعودی ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز السعود اور وزیر دفاع محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے علاقائی سکیورٹی، یمن کے ساتھ امن مذاکرات اور خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے حوالے سے سعودی کردار کی تعریف کی۔ امریکی سیکرٹری دفاع نے سعودی عرب کی جانب سے اردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال، انہیں فراہم کی جانے والی روزمرہ اشیاء اور مصر کو دی جانے والی امداد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایک اہم موقع پر سعودی عرب دنیا کے اس اہم خطے میں استحکام لانے کے لئے کردار ادا کر رہا ہے۔

ایران کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں جیمز میٹس نے کہا کہ ایران کا اثر پورے خطے میں محسوس کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس نے لبنان میں ایک ملیشیا تیار کی، شام میں اپنی فوجیں اتاریں اور بشار الاسد کو اقتدار میں رکھنے کے لئے مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں کہ اگر خطے میں کہیں بھی پریشانی ہے تو آپ وہاں ایران کو پائیں گے، اسی وجہ سے سعودی عرب اور دوسرے ممالک اس طاقت کو ختم کرنے کے لئے متحد ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 34 ملکی اتحاد فوجی کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے، اسلامی فوج کے اس اتحاد کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کر رہے ہیں، تاہم یمن کے خلاف جنگ میں سعودی فوجیوں کی شمولیت نے اس اتحاد کو متنازع بنا دیا ہے جبکہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مقصد کو سراہا ہے۔ یمن کے متعلق کئے گئے ایک سوال کے جواب میں جیمز میٹس نے کہا کہ ہمارا مقصد اس تنازع کو اقوام متحدہ کے ثالثی مذاکرات کی طرف لے جانا ہے، تاکہ اس کے حل کو یقینی بنایا جائے، تاہم انہوں نے ایران کو یمن میں مشکلات پیدا کرنے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا ایرانی اثر و رسوخ، اس کی امداد اور فرانسیسی، امریکی اور آسٹریلوی نیوی کی جانب سے پکڑے جانے والے ہتھیاروں سے ظاہر ہے کہ ایران نے ایک مرتبہ پھر مدد کی ہے۔ امریکی سیکرٹری دفاع نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ایران کی جانب سے ایک اور ریاست کو غیر مستحکم کرنے اور حزب اللہ جیسی تنظیم بنانے سے روکنے کے لئے مل کر کام کریں۔
خبر کا کوڈ : 629485
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے