0
Monday 8 May 2017 12:00
سعودی حکام اسرائیل کو ایران کیخلاف اکسانے کے سوا اور کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے

سعودی عرب نے ایران کیخلاف کسی بھی حماقت کا ارتکاب کیا تو مکہ و مدینہ کے علاوہ کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہیگا، حسین دہقان

سعودی حکام کی سوچ اس حد تک پست ہوگئی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی چاپلوسی پر بھی فخر کرنے لگے ہیں
سعودی عرب نے ایران کیخلاف کسی بھی حماقت کا ارتکاب کیا تو مکہ و مدینہ کے علاوہ کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہیگا، حسین دہقان
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوی ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دھقان نے سعودی نائب ولی عہد اور وزیر جنگ محمد بن سلمان کے دھمکی آمیز بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہر طرح کے مخاصمانہ اور جارحانہ اقدام کی بابت سخت خبردار کیا ہے۔ لبنان کے المنار ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دھقان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی بھی حماقت کا ارتکاب کیا تو مکہ و مدینہ کو چھوڑ کر سعودی عرب کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام نخوت و غرور کے نشے میں دھت ہیں اور ایسے بیانات دے رہے جن کا انہیں خود بھی ادارک نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ حسین دھقان نے کہا ہے کہ سعودی حکام اسرائیل کو ایران کے خلاف اکسانے کے سوا اور کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایران کے وزیر دفاع نے اپنے اس انٹرویو میں جس کے بعض حصے نشر کئے گئے ہیں، یہ بات زور دے کر کہی کہ سعودی حکام کی سوچ اس حد تک پست ہوگئی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی چاپلوسی پر بھی فخر کرنے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے پہلی بار یمن کے خلاف جنگ مسلط نہیں کی ہے بلکہ وہ اس پہلے بھی تین بار یمنی عوام سے منہ کی کھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے عوام اس بار بھی اپنے ملک پر تکفیری نظریات کی حامل حکومت کو مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی شہ پر، خطے کے بعض اسلامی ملکوں کے خلاف مخاصمانہ اقدامات انجام دے رہا ہے۔ مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل مسعود جزائری نے سعودی عرب کے وزیر جنگ اور نائب ولی عہد کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو خطے کی کمزور حکومتوں کی دھمکیوں کا کوئی خوف نہیں ہے اور ہم نے خود کو بڑے دشمن کے مقابلے کے لئے آمادہ کر رکھا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے ناتجربہ کار وزیر جنگ اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے دو مئی کو اپنے ایک انٹرویو میں ایران کے ساتھ مفاہمت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سعودی سرحدوں پر ہونے والی جنگ کو ایران کے اندر پہنچا دیں گے۔

دیگر ذرائع کے مطابق ایران کے وزیر دفاع نے سعودی عرب کے نائب ولی عہد کے ایران مخالف بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں تنبیہ کر دی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی "اے پی" کے مطابق المنار ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دہقان نے کہا کہ ایران کا سعودی شہزادے کو مشورہ ہے کہ وہ ایسی حماقتوں سے باز رہیں، ورنہ سعودیہ میں دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے علاوہ کچھ نہیں بچے گا۔ سعودی عرب کے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ایسا کرنے کی کوشش کیسے کریں گے، کیونکہ انہیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ اس کے لئے انہیں طاقتور فضائی فوج کی ضرورت ہے۔ جنرل حسین دہقان نے امریکہ اور اسرائیل سے سعودی عرب کے قریبی تعلقات پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تعلقات مسلم ممالک کے مفادات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب پر یمن میں حملے بند کرنے پر بھی زور دیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی شاہی خاندان کے طاقتور ترین شہزادے محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ مسلم دنیا پر اثر انداز ہونے کی خواہش رکھنے والے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران محمد بن سلمان نے کہا کہ ایک انتہا پسندانہ نظریہ رکھنے والی حکومت کے ساتھ کس طرح مفاہمت کی جاسکتی ہے، جو مسلم امہ پر تسلط قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے نظریات دنیا میں پھیلانے کی خواہش رکھتی ہو۔ انٹرویو میں سعودی عرب کے نائب ولی عہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ مل بیٹھنے کا کوئی نقطہ موجود نہیں، کیونکہ تہران کا بنیادی مقصد سعودی بادشاہت کو نقصان پہنچانا ہے۔  محمد بن سلمان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے بارڈرز پر موجود جنگ کو ایران کی سرحدوں کے اندر منتقل کر دیں گے۔
خبر کا کوڈ : 634862
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب