0
Tuesday 23 May 2017 20:32

پشاور میں رمضان المبارک سے قبل مہنگائی عروج پر، انتظامیہ خاموش

پشاور میں رمضان المبارک سے قبل مہنگائی عروج پر، انتظامیہ خاموش
اسلام ٹائمز۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں رمضان المبارک کے قریب آتے ہی اشیائے خورد و نوش اور سبزی پھلوں کی قیمتیوں کو پر لگ گئے ہیں۔ قیمتوں میں من مانے اضافوں کے باعث عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔ پشاور شہر کے بڑے بڑے سوداگروں نے رمضان المبارک میں زیادہ فروخت ہونے والی اشیاء کی بڑے پیمانے پر گوداموں میں سپلائی شروع کر دی ہے، جن میں بیسن، گھی، تیل، دالیں، چاول اور چنا شامل ہیں۔ ان اشیاء کی نایابی کے بعد رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں انہیں من مانی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ عوامی حلقوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مستقل بنیادوں پر سدباب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود 5.57 فیصد برقرار رکھنے پر مہنگائی کے تناسب میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس پر عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق رمضان المبارک سے قبل کھجور کی قیمت میں 80 روپے فی کلو تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ شہر کے تاجر چینی، دالیں، بیسن، مسالہ جات، چاول، کیچپ اور مشروبات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ 10 روپے سے لے کر 30 روپے تک اضافی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ تاجروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومتی سطح پر جو ریٹ لسٹ جاری کی جا رہی ہے، اس ریٹ پر ہم اشیائے خورد و نوش فروخت ہی نہیں کرسکتے، جبکہ بڑے تاجروں نے رمضان المبارک کی آمد کے باعث بڑی تعداد میں لاکھوں روپے مالیت کی اشیاء کو سٹاک کرنا شروع کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 639719
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب