0
Tuesday 6 Jun 2017 22:47

عالم اسلام کی تقسیم پہ ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں، شاہ محمود قریشی

عالم اسلام کی تقسیم پہ ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں، شاہ محمود قریشی
اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کےمرکزی رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عرب ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنا تشویشناک بات ہے، اس انتہائی اہم اور سنجیدہ معاملہ پر مشیر خارجہ کو پالیسی بیان دینا چاہیئے، عالم اسلام کی اس تقسیم پر ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔ قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت پورے خطہ میں ایک سنگین بحران جنم لینے والا ہے، قطر سے عرب ممالک کا سفارتی تعلقات توڑنا تشویشناک بات ہے، بہت سے پاکستانی محنت مزدوری کے لئےقطر گئے ہیں، ان کی صورتحال کیا ہے؟ اس بارے میں سب لا علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازعہ کے معاملہ پر اس ایوان نے اجتماعی دانش کا ثبوت دیتے ہوئے حکومت کی رہنمائی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہے، ایک طرف بھارت جیسا دشمن ہے، ایک دوست ملک کا بارڈر ہمارے لئے اطمینان کا باعث تھا مگر اب وہاں بھی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ کہا یہ جا رہا ہے کہ مسلمان ممالک دہشت گردی کے خلات متحد ہو رہے ہیں مگر ایران کو اس میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی اور اب قطر کو تنہا کر دیا گیا ہے، پاکستان کے قطر کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اس پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا ہے جس کی قطر کی جانب سے تردید کی جا رہی ہے، اس انتہائی اہم اور سنجیدہ معاملے پر مشیر خارجہ کو پالیسی بیان جاری کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس ایشو پر تقسیم نہیں بلکہ یکجا، سعودی عرب اور قطر دونوں ہمارے دیرینہ دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجٹ پر بات نہیں ہو رہی بلکہ لوگ نہال ہاشمی کے بیان اور جے آئی ٹی پر بات کر رہے ہیں، فنانس بل اہم دستاویز ہوتی ہے ،ملک کی اپوزیشن کی لاتعلقی سے اس کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟۔
خبر کا کوڈ : 643752
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب