0
Thursday 8 Jun 2017 14:00

بلوچستان، کچھی کینال منصوبہ 65 ارب روپے خرچ ہونیکے باوجود نامکمل

بلوچستان، کچھی کینال منصوبہ 65 ارب روپے خرچ ہونیکے باوجود نامکمل
اسلام ٹائمز۔ کچھی کینال کی تعمیر پر اب تک وفاقی حکومت نے 65 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔ لیکن اس کا پہلا فیز مکمل نہیں ہوا ہے۔ کچھی کینال بلوچستان کا سب سے زیادہ اہم ترین معاشی ترقی کا منصوبہ ہے، جس کی اہمیت موجودہ دور میں سی پیک اور گوادر سے زیادہ ہے۔ آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے اس کی تعمیر کے لئے دس ارب روپے مختص کئے ہیں۔ 65 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد کچھی کینال کے زیادہ سکینڈلز سامنے آئے ہیں۔ کچھی کینال کے ٹھیکے دار اور پروجیکٹ ڈائریکٹر نے گذشتہ مہینوں کچھی کینال کے پہلے فیز کے مکمل کرنے کا دعویٰ کیا اور ساتھ یہ بھی کوشش کی کہ اس کو حکومت کے حوالے کیا جائے۔ حکومت نے جب کام کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ تعمیرات میں غیر معیاری میٹریل استعمال ہوا اور پوری کی پوری تعمیرات غیر معیاری تھیں۔ حکومت نے اس کی تعمیر نو کا حکم دیا۔ تعمیر نو کا عمل آئندہ چند ہفتوں میں مکمل ہونے والا ہے اور یہ فیز ون حکومت بلوچستان کے حوالے کیا جائے گا۔ اس سے بگٹی قبائلی علاقے کی اسی ہزار ایکڑ زمین آباد ہوگی۔ مگر آزاد ماہرین معاشیات نے حکومت بلوچستان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ کنکریٹ سے تعمیر شدہ نہر کو ہی قبول کرے۔ ورنہ کچھی زمین میں اتنا رساؤ ہوگا کہ لاکھوں ایکڑ زمین سیم اور تھور کا شکار ہو جائے گی۔ جیسا کہ صحبت پور کی دو لاکھ ایکٹر سے زائد زمین پٹ فیڈر میں پانی کے بے پناہ رسنے سے سیم اور تھور کا شکار ہوگئی ہے۔ کچھی کینال سات لاکھ سے زائد ایکڑ زمین آباد کرے گا۔ اس میں بگٹی قبائلی علاقہ، کچھی کینال اور سبی کے میدانی علاقے شامل ہیں۔ کچھی کینال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جان بوجھ کر کچھی کینال کو کرپشن کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ابھی تک اس منصوبے کے تعمیر میں 25 سال کی تاخیر ہوچکی ہے۔

1991ء میں صوبوں کے درمیان دریائے سندھ کے نہری پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تھا۔ چونکہ بلوچستان دریائے سندھ کے نہری نظام کے آخری سرے پر واقع ہے، اس لئے سندھ کے نہری پانی سے بلوچستان کو دس ہزار کیوسک اضافی پانی دیا گیا۔ یہ معاہدے کا حصہ ہے، جس پر چاروں صوبوں کے نمائندوں کے دستخط ہیں۔ چونکہ اضافی پانی کو استعمال میں لانے کا کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ اس لئے بلوچستان حکومت کی جانب سے کچھی کینال کی تعمیر کا منصوبہ منظور کر لیا گیا۔ کچھی کینال کی غیر موجودگی میں دس ہزار کیوسک اضافی پانی سندھ اور پنجاب استعمال کرتے رہے۔ یہاں تک کہ خشک سالی کے دوران پٹ فیڈر کو زیادہ پانی فراہم نہیں کیا گیا۔ احتجاج کے بعد صرف تین ہزار کیوسک پانی فراہم کیا گیا۔ اس کی سست رفتاری کی بنیادی وجہ کرپشن اور نہری پانی کا سندھ اور پنجاب میں زیر استعمال تھا۔ 65 ارب خرچ ہونے کے بعد بلوچستان کے عوام کو ابھی تک کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ کچھی کینال میں کرپشن کی کہانیاں مشہور ہیں۔ اس پر ایک اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ کچھی کینال میں کرپشن کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔ بلوچستان کا اس میں زبردست نقصان ہوا۔ اگر بیس سال پہلے کچھی کینال تعمیر ہوتی، تو لوگ بیس سالوں کی فصلیں استعمال میں لاتے اور سات لاکھ ایکڑ زمین میں آمدنی حاصل کرتے تو بڑی حد تک علاقے میں غربت کم سے کم تر ہوتی۔ واضح رہے کہ کچھی کینال کا مطالبہ سب سے پہلے سابق گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو نے 1972ء میں کیا تھا۔ یہ منصوبہ بلوچستان کی حکومت نے تیار کیا تھا اور 1972ء میں وزارت منصوبہ بندی و ترقیاتی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ یہاں دہائیوں تک وزارت منصوبہ بندی کے سرد خانے میں پڑا رہا اور 1991ء کے بعد اس پر عمل درآمد کا خیال ہے۔
خبر کا کوڈ : 644247
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے