0
Tuesday 20 Jun 2017 23:26

امریکہ پاکستان کیساتھ زیادہ سخت پالیسی اختیار کر سکتا ہے، رپورٹ

امریکہ پاکستان کیساتھ زیادہ سخت پالیسی اختیار کر سکتا ہے، رپورٹ
اسلام ٹائمز۔ امریکی حکومت افغانستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان میں ڈرون حملے تیز کرنے اور امداد روکنے پر غور کر رہی ہے۔ بین الاقوامی خبر ایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں طالبان اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے افغانستان پر حملے کرتے ہیں اور دوبارہ منظم ہوتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی سخت کرنے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پاکستان میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا سکے۔ اس حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت پاکستان میں ڈرون حملوں میں اضافہ کرسکتی ہے، پاکستان کی امداد کو روک سکتی ہے یا پھر اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کے طور پر حاصل پاکستان کے مرتبے کو بھی کم کر سکتی ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات لاحاصل ہیں اور اس سے پہلے بھی پاکستان کو عسکریت پسند تنظیموں کی حمایت سے باز رکھنے کی امریکی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جب کہ بڑھتے ہوئے امریکا بھارت تعلقات کی وجہ سے بھی پاکستان کے ساتھ کسی پیشرفت کے امکانات کو نقصان پہنچا۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے اس رپورٹ پر موقف دینے سے انکار کردیا ہے کہ کیا حکومت کوئی پالیسی جائزہ لے رہی ہے یا نہیں۔ امریکی وزارت دفاع پنٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ نے بس اتنا کہنے پر ہی اکتفا کیا کہ امریکا اور پاکستان قومی سلامتی کے مختلف امور میں شراکت دار ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی اس خبر سے متعلق موقف نہیں دیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ حکومت علاقائی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے جسے جولائی کے وسط میں پیش کیا جائے گا۔ ہم نے پاکستان سے متعلق جامع پالیسی کبھی تشکیل دی ہی نہیں۔ اب جو پالیسی بنائی جائے گی اس میں واضح ہوگا کہ ہم پاکستان سے چاہتے کیا ہیں۔ امریکا میں افغانستان کے سفیر حمداللہ محب نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار امریکا کی پاکستان سے متعلق پالیسی کافی سخت ہوگی۔ پاکستانی حکومت کے اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان پہلے ہی اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کر رہا ہے اور ہم اس سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
خبر کا کوڈ : 647592
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے