0
Thursday 22 Jun 2017 03:49

روز قدس صرف ایک مظلوم قوم کی حمایت نہیں بلکہ سامراجی قوتوں اور توسیع پسندانہ نظام کیخلاف جدوجہد ہے، سید علی خامنہ ای

روز قدس صرف ایک مظلوم قوم کی حمایت نہیں بلکہ سامراجی قوتوں اور توسیع پسندانہ نظام کیخلاف جدوجہد ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے یوم قدس کو بہت ہی اہم دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روز قدس صرف ایک مظلوم قوم کی حمایت نہیں ہے بلکہ سامراجی قوتوں اور توسیع پسندانہ نظام کے خلاف جدوجہد کے مترادف ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے گذشتہ روز تہران میں پروفیسرز، مختلف یونیورسٹیوں کے بورڈز کے اراکین اور سائنسی شعبے میں اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کے دوران عالمی یوم القدس کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دن کا مطلب اپنے گھر بار کو چھوڑنے والے مظلوم فلسطینی قوم کا دفاع کرنا نہیں بلکہ آج فلسطین کا دفاع کرنے کا مطلب فلسطین سے بڑھ کر ایک ناقابل انکار حقیقت کا دفاع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے خلاف جدوجہد سامراجی اور ظالمانہ سیاسی نظام کے خلاف جدوجہد ہے، اسی لئے امریکی سیاستدان خوفزدہ ہیں اور وہ ایسے اقدامات کو اپنے لئے سنگین اور نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے طلباء کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں استاد کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا استاد کے مثبت اور منفی کردار کے طلباء پر بھی مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہذا اساتید اگر مؤمن، دیندار، انقلابی اور ملک و قوم کے وفادار ہوں گے تو وہ طلباء کی صحیح اور درست سمت میں راہنمائی کریں گے، اگر ان کی نظریں اغیار پر جمی ہوں گی تو وہ طلباء پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ طلباء کی تعلیم اور تربیت میں اساتید کو اپنا اہم اور مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ملک کی یونیورسٹیوں کی پیشرفت اور سائنسی ترقی کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک ایران کی سائنسی ترقی سے خوش نہیں ہیں اور وہ ایران میں جدید سائنس کو لانے کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور پہلوی کے دور میں یورپ نے بالکل ہی ایران کی یونیوسٹیوں میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کو منتقل نہیں کیا بلکہ یونیورسٹیوں کو مغربی طرز پر بنانے کی کوشش کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی وجہ سے ایران کی یونیورسٹیاں انحرافی رجحانات سے نکل کر جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں میں تبدیل ہوگئیں اور اس دور کے بہت سے طلباء آج ایسے اساتید میں تبدیل ہوگئے جو یونیورسٹیوں میں اسلام و انقلاب کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 648104
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے