0
Monday 3 Jul 2017 19:08

امریکی سینیٹر جان مکین کا وفد کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کا دورہ

امریکی سینیٹر جان مکین کا وفد کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کا دورہ
اسلام ٹائمز۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹر جان مکین کی قیادت میں 5 رُکنی وفد نے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ امریکی وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا، جبکہ پاک افغان بارڈر سکیورٹی کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے پاکستانی فوج کی جانب سے کئے گئے سکیورٹی اقدامات کو سراہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ امریکی سینٹ کی آرمڈ کمیٹی کے وفد نے سینیٹر جان مکین کی قیادت میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مقامی کمانڈر نے وفد کو پاک افغان بارڈر کی سکیورٹی کی صورت حال، اس کی اہمیت اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور وفد کو جنوبی وزیرستان میں پاک افغان بارڈ کا فضائی دورہ بھی کرایا گیا۔ فضائی دورے کے دوران جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے تعمیر کی گئی چیک پوسٹیں، سڑکیں، اسکول، کالج، کھیلوں کے اسٹیڈیم، واٹر سپلائی منصوبے اور انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی امریکی وفد کو دکھائے گئے، اس کے علاوہ مزید ترقیاتی پروجیکٹس سے بھی آگاہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی وفد گذشتہ روز پاکستان پہنچا، جہاں اُنہوں نے اعلٰی سرکاری اور فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی، جس کے دوران باہمی تعلقات، انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں تعاون اور افغانستان میں امن اور سلامتی کو فروغ دینے کی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔ یہ دورہ ایسے وقت کیا گیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس ماہ کے اوآخر میں افغان جنگ کی نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرنے والی ہے، جبکہ یہ الزامات لگ رہے ہیں کہ پاکستانی سرزمین پر موجود محفوظ پناہ گاہیں جو طالبان کی بغاوت کو قائم رکھنے اور اس میں تیزی لانے کا موجب بن رہی ہیں۔ امریکی سینیٹروں نے وزارتِ خارجہ میں تفصیلی مذاکرات کئے، جہاں پاکستان کی سربراہی امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کی۔ ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سرتاج عزیز نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی سلامتی افواج کی کامیابی کے بارے میں بریفنگ دی اور اُنہیں بتایا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک تباہ کر دیئے گئے ہیں اور محفوظ پناہ گاہوں کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔ مشیر وزیر خارجہ نے مہمانوں کو بتایا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعمیری بات چیت کا منتظر ہے، جس کا مقصد افغانستان میں استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔

اُنہوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی پارٹنرشپ کو مضبوط اور گہرا کرنے کے لئے بھی تیار ہے، تاکہ داعش کے دہشت گردوں کو خطے میں اپنے قدم جمانے سے روکا جائے۔ بعدازاں امریکی وفد نے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں ملاقات کی، جہاں فوج کا صدر دفتر واقع ہے۔ اتوار کی رات گئے پاک فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے سکیورٹی تعاون اور پاکستان و افغانستان کے درمیان رابطے پر اتفاق کیا۔ امریکی وفد کے دیگر ارکان میں سینیٹر لِنڈسی گراہم، سینیٹر الزبیتھ وارن، سینیٹر ڈیوڈ پرڈیو اور سینیٹر شیلڈن وائٹ ہاؤس شامل ہیں۔ افغان طالبان کے ساتھ پاکستان کے مبینہ روابط اور اُن کے خوفناک اتحادی، حقانی نیٹ ورک ایک طویل مدت سے امریکہ کے ساتھ تناؤ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اِن الزامات سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بھی کشیدگی رہی ہے، حالانکہ پاکستانی اہلکار اِن الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ آج جنوبی وزیرستان کے دورے سے پہلے امریکی وفد نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 650497
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے