0
Tuesday 18 Jul 2017 18:28
یمن میں جنگ بندی کے نفاذ سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کیلئے راہ ہموار ہوجائیگی

واشنگٹن نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ایران مشترکہ ایکشن پلان سے باہر نکل سکتا ہے، جواد ظریف

ضرورت اس بات کی ہے کہ مہم جوئی سے باز رہا جائے، اس لئے کہ ایسے اقدامات سے کسی فریق کو فائدہ نہیں پہنچے گا
واشنگٹن نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ایران مشترکہ ایکشن پلان سے باہر نکل سکتا ہے، جواد ظریف
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی صدر کو خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ایران مشترکہ ایکشن پلان سے باہر نکل سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ کہ واشنگٹن نے اگر ایٹمی معاہدے کی ایسی خلاف ورزی کی کہ جس سے یہ معاہدہ متاثر ہو تو ایران مشترکہ ایکشن پلان سے باہر نکل جائے گا۔ انہوں نے امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر عمل کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی خارجہ تعلقات کونسل کے تھنک ٹینک کے خصوصی اجلاس میں امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو چاہئے کہ مداخلت پر مبنی اپنے بیانات سے باہر نکل کر اس حقیقت کو جان لیں کہ ایران کے خلاف پابندیاں لگانے یا نظام بدلنے کی پالیسیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ علاقے میں ایران میں مثالی جمہوریت پائی جاتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف امریکی پابندیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی پابندیوں کے بارے میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جب ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف پابندیاں عائد کیں تو اس وقت ایران کے پاس صرف 200 سینٹری فیوج مشینیں تھیں، لیکن پابندیوں کے بعد ان کی تعداد 20 ہزار ہوگئی۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مہم جوئی سے باز رہا جائے، اس لئے کہ ایسے اقدامات سے کسی فریق کو فائدہ نہیں پہنچے گا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یمن میں جنگ بندی کے نفاذ سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی۔ ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمارا اصل مقصد امریکی کوتاہیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنانے کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دانستہ طور پر جوہری معاہدے کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے تو اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا آپشن موجود ہے۔
خبر کا کوڈ : 654395
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے