0
Monday 7 Aug 2017 23:29

سعودی رژیم اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے، واشنگٹن پوسٹ

سعودی رژیم اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے، واشنگٹن پوسٹ
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ سعودی حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت کا بیجا استعمال کر رہی ہے۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے العوامیہ میں آل سعود رژیم کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف انجام پانے والے ظالمانہ اقدامات کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے۔ اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اپنے ہی عوام کے خلاف تشدد آمیز اقدامات کا نتیجہ وسیع پیمانے پر سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں بھی برآمد ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے نئے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کی جانب اشارہ کیا اور لکھا کہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں سعودی معیشت کا خام تیل کی پیداوار پر انحصار ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اب بھی سیاہ دور سے گزر رہا ہے۔ اخبار لکھتا ہے: "اس ملک (سعودی عرب) میں انسانی حقوق پامال ہو چکے ہیں اور اظہار رائے کی آزادی سلب کر دی گئی ہے۔ ایسے حالات میں ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک کی تعمیر احمقانہ خیال سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔"

اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا: "انسانی حقوق کی پامالی کی واضح مثال وہ 14 سعودی شہری ہیں جو سب شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں صرف اس جرم میں سزائے موت دی جانے والی ہے کہ انہوں نے آل سعود خاندان کے خلاف اعتراض کیا ہے۔" یاد رہے سعودی حکام ان افراد پر دہشت گردانہ اور شدت پسندانہ اقدامات کا الزام عائد کر رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا دعوی ہے کہ ان افراد سے شدید ٹارچر کے ذریعے اعترافات حاصل کئے گئے ہیں۔ ان 14 شیعہ سعودی شہریوں میں سے ایک مجتبی آل سویکت ہے جس کی عمر صرف 21 برس ہے اور اسے جمہوریت کے حق میں منعقد ہونے والی ایک ریلی میں شرکت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ مجتبی آل سویکت العوامیہ کا رہائشی ہے اور اسے 2013ء میں دمام ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر پہلے سے گرفتار شدہ چند افراد سے ہمدستی کے علاوہ حکومت کے خلاف مظاہرے منعقد کرنے اور حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے وقت مجتبی آل سویکت کی عمر صرف 17 برس تھی۔ انہیں گرفتاری کی وجہ بیان نہیں کی گئی اور اب تک وکیل رکھنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔

مغربی مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسرز نے 22 جولائی کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں تاکید کی گئی تھی مجتبی آل سویکت کو مختلف قسم کے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں نیند سے محرومی، مار پیٹ، سگریٹ سے جلانا، قید تنہائی وغیرہ شامل ہیں۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سعودی عرب دورے کے دوران اس ملک میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر تک نہیں کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سعودی سلطنت میں ہولناک اقدامات کا سلسلہ ہر گز نہیں رکا۔ اخبار نے سعودی حکام کو خبردار کیا کہ اگر وہ حقیقتا جدید دور میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو انہیں فی الفور 14 شیعہ سعودی شہریوں کی سزائے موت ختم کر دینی چاہئے۔


خبر کا کوڈ : 659357
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے