0
Saturday 12 Aug 2017 00:19

سعودی عرب میں شیعہ نسل کشی کا حقیقی عامل وہابی طرز فکر ہے، امریکی تجزیہ کار

سعودی عرب میں شیعہ نسل کشی کا حقیقی عامل وہابی طرز فکر ہے، امریکی تجزیہ کار
اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن (Keith Preston) نے تسنیم نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود رژیم کی جانب سے العوامیہ کے شہر قطیف میں شیعہ نسل کشی کا حقیقی سبب ان کا وہابی طرز فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام نے وہابی طرز فکر کی بنیاد پر یمن اور قطیف میں شیعہ نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یاد رہے گذشتہ چند ہفتوں سے سعودی فورسز نے شیعہ اکثریتی علاقے العوامیہ کے شہر قطیف کا محاصرہ کر رکھا ہے اور طاقت کے زور پر وہاں کے مقامی افراد کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اب تک سعودی سیکورٹی فورسز کی جانب سے 30 بیگناہ شیعہ شہریوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ بڑی تعداد میں افراد کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

کیتھ پریسٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ سعودی حکومت کی جانب سے العوامیہ کا محاصرہ کر کے شیعہ مسلمانوں کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے اور سینکڑوں شیعہ شہریوں کو اپنا گھر چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور کر دینے کی اصل وجہ کیا ہے؟ کہا: "آل سعود رژیم جو اقدامات العوامیہ میں انجام دے رہی ہے وہ یمن میں انجام پانے والے ان کے اقدامات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ سعودی حکومت اپنے ملک اور یمن میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یمن اور قطیف میں سعودی رژیم کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ واضح ہے۔ یہ ایک منظم قتل عام ہے جس کا مقصد خطے میں شیعہ آبادی کا خاتمہ اور قلع و قمع ہے۔ ان سعودی اقدامات کے پیچھے دو بنیاد محرکات موجود ہیں۔ پہلا محرک سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی ایران اور یمن سے دشمنی اور کینہ توزی ہے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ یمن اور سعودی عرب میں موجودہ شیعہ مسلمان ایران کے اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔"

امریکی سیاسی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن نے مزید کہا: "سعودی حکام امیدوار ہیں یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روک سکتے ہیں۔ سعودی اقدامات کی اصل وجہ ایران اور سعودی عرب میں ٹکراو اور کشمکش کے تسلسل کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر وسیع سیاسی تنازعات میں پوشیدہ ہے۔ ایران، شام کی طرح ایک ایسا ملک ہے جو واشنگٹن کے مقابلے میں مزاحمت کر رہا ہے اور اپنے معاشرے کی ترقی اور تجدید چاہتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک نے واشنگٹن سے اتحاد کر رکھا ہے۔ یمن میں حوثی قبائل کے برسراقتدار آنے سے سعودی حکومت شدید پریشان ہے کیونکہ اس کی نظر میں ایران کی حامی نئی طاقت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ سعودی حکام یمن اور قطیف میں شیعہ مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں ایران کے حامی جذبات ختم کر سکیں۔ دوسرا محرک مذہبی ہے اور اس کی بنیاد وہابی طرز فکر پر ہے۔ وہابیت پر مبنی نظریات کی بنیاد پر شیعہ کافر جانے جاتے ہیں اور ان کا خون بہانا جائز ہے۔ لہذا سعودی حکومت شیعہ مسلمانوں کو نابود کرنا چاہتی ہے۔"

کیتھ پریسٹن نے اس سوال کے جواب میں کہ سعودی عرب میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات محمد بن سلمان کو طاقت کی منتقلی کے بعد پیش آئے ہیں، آپ ان حالات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کہا: "محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی خارجہ اور داخلہ سیاست میں پیش آنے والے مسائل خاص طور پر یمن کی جنگ اور تہران ریاض تعلقات کے بارے میں شدت پسندانہ موقف اختیار کر رکھا ہے لہذا اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں کہ یمن اور العوامیہ میں شیعہ مسلمانوں پر حملے محمد بن سلمان کے برسراقتدار آنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور کریں کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کی شدت میں اضافہ اور محمد بن سلمان کی جانب سے مجوزہ اصلاحات نہ صرف ان کا ولیعہد کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد سامنے آئی ہیں بلکہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اسلحہ کی فروخت کے جدید معاہدے کے بعد بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ تمام عوامل موجودہ حالات کے معرض وجود میں آنے میں کارفرما ہیں۔"

امریکی تجزیہ کار کیتھ پریسٹن نے کہا: "آل سعود خاندان نے ایک جوان شہزادے کو ولیعہد کیلئے انتخاب کیا ہے۔ یہ جوان ولیعہد سعودی عرب میں اصلاحات کے نفاذ اور تبدیلیوں کے ذریعے ملک کو اس مغربی ثقافتی ماڈل اور نیولبرل اقتصادی ماڈل کے قریب کرنا چاہتا ہے جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ محمد بن سلمان کی ولیعہد کے طور پر تقرری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورہ سعودی عرب کے ایک ماہ بعد انجام پائی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان 110 ارب ڈالر اسلحہ خریدنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اب محمد بن سلمان کے ولیعہد بن جانے کے بعد یمن اور قطیف میں سعودی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔"
خبر کا کوڈ : 660394
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب