?>?> پاکستان مسلم لیگ (ق) ہم خیال نے موجودہ حکمرانوں کی 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کر دیا - اسلام ٹائمز
0
Monday 18 Apr 2011 20:54

پاکستان مسلم لیگ (ق) ہم خیال نے موجودہ حکمرانوں کی 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کر دیا

پاکستان مسلم لیگ (ق) ہم خیال نے موجودہ حکمرانوں کی 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کر دیا
لاہور:اسلام ٹائمز۔پاکستان مسلم لیگ (ق) ہم خیال نے موجودہ حکمرانوں کی 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ ملکی تاریخ کا یہ 3 سالہ بدترین طرز حکومت ہے جس میں جمہوریت اور سیاستدان گالی بن چکے ہیں، پاکستان کو بحری جہاز کی طرح چلایا جا رہا ہے اور کرپٹ حکمران ملک کو بحری قذاقوں کی طرح لوٹ رہے ہیں، موجودہ حکمران اشیائے ضروریہ، صنعت، تجارت، زراعت، معاشی صورتحال، شرح ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور امن و امان کے قیام سمیت ہر شعبے میں ناکام ہو چکے ہیں، وفاق اور پنجاب حکومت میں کوئی فرق نہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ناکامی پر حکمران فوری طور پر مستعفی ہو کر نئے انتخابات کا اعلان کریں جبکہ دھمکی دی ہے کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو سڑکوں پر آنے سمیت ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔
اس بات کا اعلان مسلم لیگ (ہم خیال ) پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات میاں محمد آصف اور مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل چودھری ناصر محمود ایڈووکیٹ نے پارٹی کے صوبائی دفتر گرین بلڈنگ میں وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا، وائٹ پیپر میں 15 نومبر 2007ء کے مقابلے میں حکمرانوں کے 3سالہ دور اقتدار کے دوران مختلف شعبوں میں تقابلی جائزہ دیا گیا ہے، میاں آصف نے کہا کہ مسلم لیگ ہم خیال سالانہ بنیادوں پر حکمرانوں کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرتی رہی ہے، حکمرانوں کے یہ 3 سال ملکی تاریخ کا بدترین طرز حکومت ہے جس میں جمہوریت اور سیاستدان ایک گالی بن چکے ہیں ان پر سے عوامی اعتماد اٹھ گیا ہے، اس مدت میں پاکستان میں ہزاروں ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، اور اس ضمن میں سال 2010ء عروج پر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پچھلے 12 ماہ میں 200 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی، ملک میں کرپشن، مہنگائی اور راشی مشینری کی وجہ سے ملکی معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور عالمی اعداد و شمار کے مطابق افراط زر میں زیادتی کی وجہ سے پاکستان ایتھوپیا کے قریب پہنچ گیا ہے۔ وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کی 10 ناکام ترین ریاستوں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جبکہ بدامنی کے شکار ممالک میں پاکستان 5ویں نمبر پر ہے اور پاکستان میں ناقص حکمرانی پر دنیا کے اہم ترقی یافتہ ممالک اپنی اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام بھوک، ننگ اور بیروزگاری سے مر رہے ہیں اور خودکشیاں کر رہے ہیں لیکن حکمران کہہ رہے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے، اور کہتے ہیں کہ غریب عوام ہمارا ووٹ بنک ہیں، شاید اسی لئے غریب کو 24 سے 40 فیصد پر لے گئے ہیں تاکہ ان کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو سکے، میاں آصف نے کہا کہ چار وزرائے خزانہ، سیکرٹریز خزانہ اور 3 گورنر سٹیٹ بنک بدلنے کے باوجود ملکی معیشت، مصنوعی نظام تنفس پر چل رہی ہے، مسلم لیگ (ق) کے اپنے دور حکومت سے موجودہ حکمرانوں کے 3 سالوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان 3سالوں کے دوران 2007ء کے مقابلے میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 121 فیصد، چینی کی فی کلو گرام قیمت میں 130 فیصد، باسمتی چاول کے نرخوں میں 100 فیصد، دودھ کی قیمتوں میں 150 فیصد، مرغی، بڑے گوشت، سبزیوں اور پھلوں کی فی کلو گرام قیمتوں میں 100 سے 160 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس طرح تنخواہ دار طبقے اور مزدوروں کی اجرتوں میں 50 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح میں مجموعی طور پر 130 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے سے وابستہ کھادوں اور ٹیوب ویل کے بلوں میں بالترتیب 272، 109 اور 247 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ملکی ترقی کی شرح نمو جو ہم 9 فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے وہ 2.5 فیصد پر کھڑی ہے، ہمارے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح 8.4 ارب ڈالر تھی جو اب صرف 1.8 ارب ڈالر رہ گئی ہے، اسی طرح صنعتی ترقی 12 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی تھی اب صنعتی ترقی منفی ہو گئی یا تو صنعتیں بند ہو رہی ہیں یا بنگلہ دیش اور سری لنکا منتقل ہو رہی ہیں، جس سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔
وائٹ پیپر میں غیر ملکی قرضوں، ڈرون حملوں، ملکی تجارت، زرمبادلہ ڈالر کی موجودہ شرح تبادلہ، ڈرون حملوں، خودکشیوں اور دیگر معاملات کے بارے میں رائے دی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں محمد آصف نے کہا کہ متحدہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کو وسیع کیا جا رہا ہے پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کا فی الحال ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں، البتہ مشرف کو سیاست کرنے کا حق حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکمران ہر محاذ پر ناکامی کے باعث مستعفی ہوں اور نئے انتخابات کا فوری طور پر اعلان کیا جائے، اور اگر ہمارے مطالبات منظور نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر آنے سمیت ہر جگہ اور ہر سطح پر احتجاج کریں گے، ایک سوال کے جواب میں چوہدری ناصر محمود نے کہا کہ حکمران پاکستان کو بحری جہاز کی طرح چلا رہے ہیں اور بحری قزاقوں کی طرح ملک کو لوٹا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 66196
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش