0
Saturday 19 Aug 2017 11:04

اگر نواز شریف احتساب عدالت میں پیش نہ ہوئے تو آئندہ غریب آدمی بھی پیش نہیں ہوگا، سینیٹر سراج الحق

اگر نواز شریف احتساب عدالت میں پیش نہ ہوئے تو آئندہ غریب آدمی بھی پیش نہیں ہوگا، سینیٹر سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے تو پھر کوئی غریب بھی ان عدالتوں میں پیش نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ قانون ہو۔ ملک میں ایک قانون ہوگا اور عدلیہ کی بالادستی ہوگی۔ نواز شریف عدالتوں اور اداروں کو دھمکیاں دے کر اپنے خلاف نیب ریفرنسز کو رکوانا چاہتے ہیں، حالانکہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی نے انہیں اپنی بے گناہی کا پورا پورا موقع دیا۔ مگر وہ خود کو صادق و امین ثابت نہیں کرسکے۔ جس پر عدالت نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔ نواز شریف کو اپنی نااہلی پر توبہ و استغفار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔ مگر وہ تکبر کے گھوڑے پر سوار ہو کر جی ٹی روڈ پر نکل کھڑے ہوئے۔ نواز شریف اسٹیٹس کو کا ایک سنبل تھا، جس کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ اسٹیٹس کو، کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ پانامہ اسکینڈل میں موجود دیگر 436 لوگوں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ کرپشن میں لتھڑے ہوئے پانچ چھ ہزار لوگ جیلوں میں چلے جائیں تو قوم کی قسمت بدل سکتی اور ملک محفوظ ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر جلسہ میں امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی، امیر ضلع مولانا عبدالکبیر شاکر اور قبائلی سردار انجینئر حمید اللہ بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ باسٹھ ٹریسٹھ کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والے چاہتے ہیں کہ کوئی دیانتدار اقتدار کے ایوانوں میں نہ پہنچے اور چور لٹیرے اکٹھے ہو کر پاکستان کو لوٹتے رہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کا مقصد اگر صرف لوٹ کھسوٹ ہے تو پھر جیلوں کے دروازے کھول کر تمام چور لٹیروں کو بھی چھوڑ دینا چاہیے، تاکہ وہ بھی حکومت کرسکیں۔ پاکستان کے آئین نے قوم کو اتحاد و یکجہتی کی لڑی میں پرو رکھا ہے۔ اسے کسی فرد یا خاندان کے مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کو سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی نے صفائی کا جتنا موقع دیا، شاید ہی کسی کو دیا گیا ہو۔ مگر وہ خود کو بے گناہ ثابت نہیں کرسکے اور پھر انہوں نے عدالتوں اور اداروں کے خلاف محاذ آرائی کا رویہ اختیار کیا۔ انہیں شیشہ توڑنے کی بجائے اپنا منہ دھونا چاہیے تھا۔ جس پر لگی سیاہی کو پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں پورے ملک سے زیادہ کرپشن ہے۔ یہاں سے جو خان اور سردار اسلام آباد پہنچتے ہیں، وہ عوام کے مسائل بھول کر اپنے عیش و آرام اور اپنی نسلوں کو سنوارنے میں لگ جاتے ہیں۔ 70 سال سے سیاست، جمہوریت اور معیشت کو انہی لوگوں نے یرغمال اور اپنے گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے۔ جن سے آزادی کے لئے اس قوم نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ معاشی اور سیاسی دہشتگردی مسلح دہشتگردوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ جنہوں نے عوام سے تعلیم، صحت، روزگار اور چھت کی سہولتیں چھین لی ہیں اور اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اگر ملک کا 375 ارب ڈالر کا سرمایہ جو لوٹ کر بیرونی بینکوں میں پہنچا دیا گیا ہے، واپس آجائے تو عام آدمی کو پریشانیوں سے نکالا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان مہم کا اصل ہدف یہ ہے کہ لوئی گئی قومی دولت واپس لائی جائے، تاکہ عام آدمی کو درپیش مشکلات ختم کی جاسکیں۔ ہم نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دولت کی ریکوری کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ عوام کی محرومیوں کے اصل ذمہ دار حکمران ہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں اور مارشل لاء کے دور میں اشرافیہ نے دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا۔ پھر سیاست کو پیسے کا کھیل بنا کر اور اربوں کھربوں خرچ کرکے اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہوگئے۔ موجودہ انتخابی نظام میں عام آدمی الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام آباد کے محل روشن اور بلوچستان کی جھونپڑیوں میں اندھیرے ہیں۔ جن کے ذمہ دار یہاں کے سردار اور خوانین ہیں، جو ستر سال سے اقتدار پر مسلط ہیں۔ عوام اپنا انتخابی رویہ تبدیل کریں اور سانپوں کے منہ میں دودھ ڈالنے کی بجائے دیانتدار لوگوں کو منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجیں، تاکہ ان کی امانتوں کی حفاظت ہو اور ان کو مسائل کی دلدل سے بھی نجات مل سکے۔
خبر کا کوڈ : 662399
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب