0
Monday 21 Aug 2017 15:32

آئین کو تبدیل کرنیکی بجائے چہرے کو صاف کرنیکی ضرورت ہے، سینیٹر سراج الحق

آئین کو تبدیل کرنیکی بجائے چہرے کو صاف کرنیکی ضرورت ہے، سینیٹر سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئین کو چھیڑنے سے وفاق اور صوبوں کی یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ قومی دولت لوٹنے والے پکڑنے جانے پر کہتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ حکمران من پسند تبدیلیاں کرکے آئین کو توڑ مروڑ رہے ہیں۔ یہ کونسی جمہوریت ہے۔؟ اداروں کو دھونس دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ رہی سہی جمہوریت ختم ہوئی یا کوئی حادثہ ہوا تو ذمہ دار نواز شریف اور ان کا ٹولہ ہوگا۔ آئین سے صادق اور آمین کی شق ختم کرنے نہیں دینگے۔ بلوچستان سمیت ملک بھر آج مسائل اور مشکلات کا شکار ہے۔ کوئٹہ میں پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو ایک المیہ جنم لے سکتا ہے۔ یہاں صحت، تعلیم کی سہولیات ناپید ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں پر خوف طاری ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگری ہے، مگر روزگار نہیں ہے۔ ان نوجوانوں کی آنکھوں میں غصہ دیکھ رہا ہوں۔ آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ضرورت مند افراد کو تعلیم، صحت، چھت اور دیگر سہولیات فراہم کریں۔ سابق وزیراعظم کہتا ہے کہ آئین میں تبدیلی ہونی چاہیے۔ امریکہ اور برطانیہ کے آئین میں صدیاں گزرنے کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہر حکمران آتا ہے تو آئین میں من پسند تبدیلیاں کرتا ہے۔ پاکستان کا آئین سب سے مظلوم آئین ہے۔ جو بھی آمر آتا ہے، سب سے پہلے آئین کو توڑتا اور مروڑتا ہے۔

سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا  تھا کہ 73ء کا آئین صوبوں اور ملک میں بسنے والی اقوام کا متفقہ آئین ہے۔ جس نے وفاق اور چاروں صوبوں کو متحد رکھا ہے۔ آئین کو تبدیل کرنے کی بجائے چہرے کو صاف اور سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اداروں کو دھونس دھمکیاں دینے سے رہی سہی جمہوریت ختم ہوئی تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم اور ان کے ٹولے پر عائد ہوگی۔ ہمارا مقصد جمہوریت کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ نظام کی اصلاح ہے۔ بڑے مگرمچھوں پر اداروں نے کبھی ہاتھ نہیں ڈالا۔ نواز شریف اور ان کے بیٹے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اگر کوئی غریب کرتا تو سوچیئے عدالتیں ان کا کیا حشر کرتیں۔؟ یہاں غریب کیلئے الگ اور امیر کیلئے الگ نظام ہے۔ پاناما لیکس میں صرف نواز شریف نہیں بلکہ 436 لوگ ہیں۔ سب کا احتساب چاہتے ہیں اور کرینگے۔ پاناما لیکس میں حاضر سروس ججز، بیوروکریٹس، سیاستدان اور غیر سیاستدان سب شامل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 663059
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب