0
Sunday 27 Aug 2017 18:50

پاکستان کو امریکی پالیسی کے مدنظر نیا دفاعی بلاک تشکیل دینا چاہیے، صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر

حکومت پاکستان امریکی دھمکی کے مقابلے میں مضبوط موقف اختیار کرے، پارلیمنٹ اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، کونسل کے قائدین کا مطالبہ
پاکستان کو امریکی پالیسی کے مدنظر نیا دفاعی بلاک تشکیل دینا چاہیے، صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں کی غلامانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے، تاہم پاک فوج کے سربراہ کا جرات مندانہ موقف ایک خوش آئند اقدام ہے، ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر زبیر نے کونسل کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ اجلاس جماعت اہل حرم کی میزبانی میں جامعہ نعیمیہ، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو نیا بلاک تشکیل دینا چاہیے، جس میں پڑوسی اور دوست ممالک شامل ہو کر امریکہ کو مضبوط جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے مضبوط دفاعی معاہدے کئے جائیں۔ اگر پاکستانی قوم جذبہ ایمانی کے ساتھ میدان میں اترے تو ہر جنگ جیت سکتی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ہم چین، روس اور ایران کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے ہماری حکومت سے پہلے پاکستان کی حمایت کی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم نے کہا کہ ٹرمپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے عوام باغیرت، نڈر اور باایمان ہیں، امریکہ کو بھی اپنی طاقت کو دیکھنا چاہیے، افغانستان میں ناکامیوں کا ملبہ ہم پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ کونسل کے نائب صدر علامہ امین شہیدی نے کہا کہ امام خمینی کا نعرہ کہ امریکہ کی دوستی سے ڈرو دشمنی سے نہیں، آج ثابت ہوگیا ہے۔ تازہ امریکی پالیسی سے سبق لے کر اپنا دفاعی بلاک تشکیل دینا چاہیے۔

تحریک اسلامی کے جنرل سیکرٹری علامہ عارف واحدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے فرمایا کہ مسلمان قوم جھکنے کے لئے پیدا نہیں ہوئی۔ حکومت کا بیان کمزور تھا، پارلیمنت کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت عرصے سے امریکہ کی خواہش ہے کہ خطے میں بھارت کو پولیس مین کے طور پر کردار دیا جائے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکی مفادات کی یکسانیت کے سبب ان کے مابین روابط میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجارتی، عسکری اور تزویراتی روابط، افغانستان میں بڑھتا ہوا بھارتی کردار، مسئلہ کشمیر میں بھارتی موقف کی حمایت اور حال ہی میں کشمیر میں سرگرم عمل جہادی تنظیموں کے خلاف اقدامات انہی تزویراتی روابط کی جانب نشاندہی کرتے ہیں۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل اس خطے میں پاکستان کے ساتھ علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے ہمہ گیر دوستانہ روابط کو بھی اپنے مفادات کے لئے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ طرح طرح کے اقدامات کے ذریعے ان ممالک کے مابین پیدا ہونے والی قربت کو کم کرنے، تجارتی روابط کو کمزور کرنے کے لئے اقدامات کرتے رہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان پالیسی اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ وہ اپنی اور نیٹو افواج کی افغانستان میں ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کے درپے رہا ہے۔

اجلاس میں کونسل کی رکن جماعتوں کے دیگر قائدین کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرنے والے دیگر راہنماﺅں میں جمعیت علمائے اسلام سینیئر کے سربراہ پیر عبد الرحیم نقشبندی، ھدیہ الہادی کے سربراہ پیر سید ہارون گیلانی، تحریک اویسیہ کے امیر پیر غلام رسول اویسی، تحریک احیائے خلافت کے سربراہ قاضی ظفر الحق، مجلس وحدت مسلمین کی شوریٰ عالی کے رکن علامہ اقبال بہشتی، تقریب کے میزبان اور جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی، تحریک جوانان کے سربراہ عبد اللہ گل، جمعیت اتحاد علماء کے نائب صدر مولانا عبد الجلیل نقشبندی، پاکستان عوامی تحریک کے ضلع اسلام آباد کے نائب صدر میر واعظ ترین، تنظیم اسلامی کے مرکزی راہنما خالد عباسی، جمعیت اہلحدیث اسلام آباد کے امیر مولانا عمر فاروق، تحریک اتحاد امہ پاکستان کے سربراہ سید راحت کاظمی، امامیہ آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل لعل مہدی، فلسطین فاﺅنڈیشن کے نمائندہ مختار بلوچ، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے مرکزی نمائندہ حافظ سید حبیب اللہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ اس کے علاوہ رکن جماعتوں کے بہت سے دیگر قائدین بھی اجلاس میں شریک تھے، جن میں سید ذوالفقار علی شاہ، علامہ اصغر عسکری، مفتی عامر شہزاد، طاہر تنولی، آصف تنویر اعوان ایڈووکیٹ، پیر تبسم بشیر اویسی، آصف فدا تنولی اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 664730
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب