0
Monday 28 Aug 2017 11:23

امریکی ریاست ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک

امریکی ریاست ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک
اسلام ٹائمز۔ امریکہ میں سمندری طوفان ہاروے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں 5 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طوفان کے نتیجے میں ٹیکساس میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی اور نشیبی علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ امریکا کی نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکساس کا شہر ہیوسٹن متاثر ہوا ہے، جہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جب کہ سڑکوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہے اور سفر کرنا تقریباً نا ممکن ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہیوسٹن میں 24.1 انچ بارش ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے، جب کہ اب تک ایک ہزار کے قریب افراد کو امدادی عملے کی جانب سے ریسکیو کیا جا چکا ہے، تیز ہواؤں اور مسلسل بارش کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ہزاروں افراد بجلی کی فراہمی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گورنر ٹیکساس گریگ ایبٹ نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ یہ طوفان بڑی تباہی کی وجہ بنے گا اور وہاں کے شہری سیلابی صورتحال کےلیے تیار رہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گورنر ٹیکساس کی درخواست پر رات گئے ریاست ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دے دیا تھا اور متعلقہ وفاقی اداروں کو ہنگامی امدادی کارروائیوں کا فوری حکم جاری کردیا تھا۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ ہریکین ہاروے ٹیکساس کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوچکا ہے، جبکہ متاثرہ مقامات سے افراد کا بڑے پیمانے پر انخلا بھی شروع کردیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو کسی بنا پر متاثرہ علاقوں کو چھوڑ کر نہیں جاسکتے ان کےلیے وہیں پر محفوظ مقامات بنادیئے گئے ہیں۔ ٹیکساس کے گورنر ایبٹ نے ریسکیو اور تعمیر نو آپریشن کے لیے 1800 فوجی اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دیا ہے جب کہ ان کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران مزید بارشوں کا بھی امکان ہے۔ خیال رہے کہ ہیوسٹن امریکا کے گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے جس کی آبادی تقریباً 66 لاکھ کے قریب ہے۔

خلیج میکسیکو کی جانب سے ٹیکساس کی طرف بڑھنے والا یہ طوفان اب تک اس امریکی ریاست کے ساحلی مقامات لیمار اور راک پورٹ سے ٹکرا چکا ہے جبکہ 6 تا 10 میل فی گھنٹہ کی شرح سے اس کی پیش رفت مسلسل جاری ہے۔ اس کے دیوقامت بازؤوں میں ہوا کی گردشی رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ٹیکساس کے ساحلی شہر کورپس کرسٹی میں نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان شمال مغرب کی سمت حرکت کرتے ہوئے 600 کلومیٹر تک آگے بڑھے گا جبکہ اس سے اراناساس کاؤنٹی، نارتھ ایسٹرن سان پیٹریشیو کاؤنٹی اور سینٹرل ریفیوجیو کاؤنٹی کے علاقوں کو شدید ترین خطرات لاحق ہیں۔ امریکا کے نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق کورپس کرسٹی کے ساحلوں سے ٹکرانے والی لہروں کی شدت اور اونچائی ظاہر کرتی ہیں کہ آنے والے 12 سے 24 گھنٹوں میں اس طوفان کی وجہ سے موسمی صورتحال مزید خراب ہوگی۔ ماہرینِ موسمیات کے نزدیک ہاروے، طوفانِ باد و باراں (ہریکین) کا انداز بھی معمول کے طوفانوں سے خاصا مختلف ہے کیونکہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہ مزید آگے بڑھنے کے بجائے سمندر کی طرف واپس پلٹ سکتا ہے اور یوں اس کی کم پڑتی ہوئی شدت میں ایک بار پھر اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ اس سے ہونے والی تباہی بھی ہمارے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی رواج کے مطابق زیادہ شدید، خطرناک اور تباہ کن طوفانوں کو خواتین کے نام دیئے جاتے ہیں جبکہ کم خطرناک طوفانوں کے مردانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ مذکورہ طوفان کےلیے مردانہ نام ہاروے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب یہ وجود میں آیا تھا تو خود ماہرین کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا خطرناک ہوجائے گا اسی لیے انہوں نے اسے مردوں والا نام دیا۔ البتہ ماہرین کے اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے یہ طوفان شدید کی انتہائی حدوں کو پہنچ چکا ہے لیکن اب اس کا نام بدلنے کا وقت گزر چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 664849
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب