0
Tuesday 19 Sep 2017 12:12

اگر امریکہ ایٹمی معاہدے سے باہر نکلتا ہے تو واشنگٹن کو اسکی بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی، ڈاکٹر حسن روحانی

یہ ممکنہ اقدام نہ صرف امریکہ کیلئے کوئی فائدہ نہیں رکھتا بلکہ ایسا کرنے کیصورت میں پوری دنیا کا اعتماد اس سے اٹھ جائیگا
اگر امریکہ ایٹمی معاہدے سے باہر نکلتا ہے تو واشنگٹن کو اسکی بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے سے باہر نکلتا ہے تو اس کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ ایرانی صدر نے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک گئے ہوئے ہیں، امریکی ٹی وی چینل سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایٹمی معاہدے سے باہر نکلتا ہے تو واشنگٹن کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ انہوں نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے ممکنہ طور پر نکل جانے کی صورت میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکی حکام اتنی بھاری قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے اقدام کے عوض جس کی انجام دہی ان کے لئے بے سود ہوگی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ یہ ممکنہ اقدام نہ صرف امریکہ کے لئے کوئی فائدہ نہیں رکھتا بلکہ ایسا کرنے کی صورت میں پوری دنیا کا اعتماد امریکہ پر سے اٹھ جائے گا اور اس کے تئیں بے اعتمادی کی فضا میں اضافہ ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اس وقت واشنگٹن شمالی کوریا کے مسئلے میں الجھا ہوا ہے اور اگر وہ ایٹمی معاہدے سے نکل جاتا ہے تو وہ شمالی کوریا کو کیسے اس بات کی ضمانت دے پائے گا کہ وہ واشنگٹن  کے ساتھ کسی معاہدے پر بھروسہ کرے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں اپنے قیام کے دوران فرانس کے صدر امانوئل میکرون سے بھی ملاقات میں کہا کہ اس بات کی  اجازت نہیں دینی چاہئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے کے ثمرات کو نقصان پہنچے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے سبھی فریقوں کو چاہئے کہ وہ اس معاہدے پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو بھی اس پر عمل درآمد کرنے کی یاد دہانی کراتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکہ کی موجودہ حکومت کا رویّہ عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے پر نگرانی کا حق صرف آئی اے ای اے کو ہے، جس نے اب تک سات مرتبہ صراحت کے ساتھ اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ ایران نے اس معاہدے کی پوری پابندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد کو اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ ایٹمی معاہدے جیسے شفاف معاہدے کو دیگر مسائل سے مشروط یا مربوط کریں۔ فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ سبھی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ فرانس ایٹمی معاہدے پر مکمل درآمد کے حق میں ہے اور اس معاہدے کے بارے میں دوبارہ مذاکرات کا مخالف ہے اور انہیں بے معنی سمجھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 670314
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب