0
Tuesday 19 Sep 2017 09:38
شام یا عراق کی تقسیم علاقائی استحکام کیلئے فائدہ مند نہیں ہوگی، انٹونیو گوٹیریش

اپنی قوم کی صلاحیتوں پر اطمینان ہے، ہم کسی بھی طرح کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے، ڈاکٹر حسن روحانی

شام کا مسئلہ ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے، ہم نہیں چاہتے تھے کہ دہشتگرد شام میں حکمرانی کریں
اپنی قوم کی صلاحیتوں پر اطمینان ہے، ہم کسی بھی طرح کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کو انٹرویو دینے کے ساتھ ساتھ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، فرانس اور آسٹریا کے صدور اور سویڈن کے وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کیں ہیں۔ ایرانی صدر نے پیر اور منگل کی درمیانی شب نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کے تحفظ بالخصوص اس حوالے سے خلاف ورزیوں کو روکنے پر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا کردار اہم ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کے فروغ پر آمادہ ہے۔ علاقائی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ عراق کی جغرافیائی سالمیت اور آئین کی بھرپور حمایت کریں، کیونکہ عراقی خطے کردستان میں ریفرنڈم کا فیصلہ خطے کے ممالک کی سرحدی اور جغرافیائی تبدیلی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عراقی سالمیت اور وہاں کے آئین کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ہم سجھتے ہیں کہ شام اور عراق کے مسائل کے خاتمے کے لئے سیاسی طریقے اور پُرامن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ انٹونیو گوٹیریش نے مزید کہا کہ شام یا عراق کی تقسیم علاقائی استحکام کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگی۔

ایرانی صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے دورہ نیو یارک کے موقع پر امریکی چینل سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی قوم کی صلاحیتوں پر اطمینان ہے اور کسی بھی طرح کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے الگ ہونا فریقین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اور امریکہ کی اس معاہدے سے علیحدگی اس کو مہنگی پڑے گی۔ ایرانی صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام حالات کا جائزہ لے رہا ہے اور ہم کسی بھی صوتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدہ چند فریقی معاہدہ ہے اور اس حوالے امریکہ کو بھی سنجیدہ پالیسی اپنانی ہوگی۔ خطے کی صورتحال بالخصوص شام کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ شام کا مسئلہ ہمارے لئے اہمیت کا حامل ہے، ہم نہیں چاہتے تھے کہ دہشتگرد شام میں حکمرانی کریں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے میانمار میں مسلمانوں کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف مظالم انسانی المیہ ہے اور وہاں ایک مخصوص طبقے کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ حکومت میانمار اور وہاں کی فوج پر دباو ڈالیں اور متاثرہ مسلمانوں اور پناہ گزینوں کو جلد امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر حسن روحانی نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی 72ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جوہری معاہدے کے تحفظ پر یورپی ممالک بالخصوص فرانس کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کے ثمرات کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے۔ انہوں نے جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی حکومت کے رویئے کو عالمی برداری کے لئے پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف عالمی ایٹمی توانائی ادارہ اس معاہدے کی نگرانی کرسکتا ہے اور اس عالمی ادارے نے اب تک اپنی مختلف رپورٹوں میں سات مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی ہے۔ حسن روحانی نے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی مسائل بالخصوص دہشتگردوں سے مقابلے کرنے کے لئے باہمی تعاون پر تاکید کی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس ملاقات میں کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے لئے پر عزم ہیں اور فرانس اس معاہدے پر قائم ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔ ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کا خواہاں ہے اور اس حوالے سے  دوبارہ مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔

درایں اثنا ایرانی صدر نے آسٹرین صدر الیگزینڈروین ڈیر بیلن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں آسٹریا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران، یورپی یونین کے ممالک بشمول آسٹریا کے ساتھ روابط کے فروغ کا خیر مقدم کرتا ہے۔ اس موقع میں آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وین ڈیر بیلن نے ایران اور آسٹریا کے مابین کـثیر الجہتی تعلقات کو فروغ دینے پر دلچسبی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم باہمی تعلقات کی مزید توسیع کے علاوہ ایران میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے عالمی سطح پر ایران کی اچھی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی اچھی اقتصادی صورتحال، ایرانی مارکیٹ میں یورپی اور آسٹرین کمپنیوں کی مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے سویڈن کے وزيراعظم اسٹيفن لوفون كے ساتھ  ہونے والی ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سویڈن کے درمیان تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوچکا ہے اور باہمی تعاون کے سلسلے میں ایرانی حکومت سوئڈش سرمایہ کاروں کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ سوئڈش وزيراعظم اسٹيفن لوفون نے اس ملاقات میں كہا كہ دونوں ممالک كے درميان اقتصادی تعلقات كو فروغ دينے کی راہ میں كوئی ركاوٹ نہيں ہے۔ اسٹيفن لوفون نے جوہري معاہدے کے مكمل نفاذ اور ايران كے ساتھ تجارتی پابنديوں كے خاتمے پر زور ديتے ہوئے كہا كہ ہم عالمی ايٹمی توانائی ايجنسی كی رپورٹ كے مطابق ايران كی جانب سے اپنے تمام وعدوں پرقائم رہنے کا خیر مقدم کرتے ہيں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر حسن روحانی اقوام متحدہ کی 72ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نیو یارک کے دورے پر ہیں۔ صدر روحانی 20 ستمبر بروز بدھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 670321
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب