0
Tuesday 19 Sep 2017 19:52
ہم اسلامی شدت پسندی اور اسلامی شدت پسندی کی حمایت کرنیوالوں کو ختم کرینگے

ایران کیساتھ ہونیوالا معاہدہ شرمناک اور عالمی طور پر خراب ترین معاہدہ تھا، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران دہشتگردوں کی حمایت کرنا بند کرے، القاعدہ، حزب اللہ اور طالبان کو جڑ سے اکھاڑ دینگے
ایران کیساتھ ہونیوالا معاہدہ شرمناک اور عالمی طور پر خراب ترین معاہدہ تھا، ڈونلڈ ٹرمپ
اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 72 ویں سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے جوہری ہتھیاروں کو نہیں روکا تو امریکہ اس کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ یو این جی اے کے افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے جبکہ دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول پوری دنیا میں انسانی جانوں کے لئے سخت خطر ہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ان کے عرفی نام راکٹ مین سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ مین اپنی اور اپنی حکومت کی خودکشی کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس بڑی طاقت اور صبر ہے، تاہم جب اس کو دفاع کے لئے مجبور کیا جائے گا تو پھر ہمارے پاس شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ اقوام متحدہ کے فورم میں پہلی بار خطاب کرنے والے ٹرمپ نے کوریا کے خلاف روایتی زبان استعمال کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر دیگر ممالک کے رہنماؤں نے تنقید کی۔

امریکی صدر نے تمام اقوام کو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے سے روکنے کے لئے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ شرمناک تھا اور یہ عالمی طور پر خراب ترین معاہدہ تھا۔ انہوں نے اسلامی شدت پسند اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلامی شدت پسندی اور اسلامی شدت پسندی کی حمایت کرنے والوں کو بھی ختم کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے، القاعدہ، حزب اللہ اور طالبان کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے، ہم اسلامی شدت پسندی کو ختم کریں گے، اسلامی شدت پسندوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی ختم کریں گے۔ ٹرمپ نے دنیا بھر کے رہنماوں کو اپنی قومی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لئے اپنے ملکوں میں سکیورٹی کے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں موجود عالمی رہنماؤں اور مندوبین کے سامنے کھڑے ہوکر کہا کہ اقوام متحدہ کے اراکین کو مشترکہ طور پر ذاتی دلچسپی کے لئے کام کرنے والی اقوام کی طرح عالمی خطرات سے نمٹنے کے لئے متحدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے وینزویلا کے صدر نیکولس میڈورا کی حکومت کو تباہ کن حکمرانی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو مداخلت کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، نہ ہی اس کی حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ دیکھی جاسکتی ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں، دہشت گرد طاقتور ہو کر دنیا کے ہر کونے میں پہنچ گئے ہیں، دہشت گرد پُرامن دنیا کے لئے بڑا خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہماری فوج اتنی طاقتور ہوگئی ہے، جتنی پہلے کبھی نہیں تھی، اربوں ڈالر فوج اور دفاع پر خرچ کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی طرز زندگی کسی پر مسلط نہیں کرنا چاہتے، ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں، توقع ہے کہ تمام ممالک دوسرے ملکوں کی خود مختاری کا احترام کریں گے، یہ ہم پر ہے کہ ہم دنیا کو آگے لے کر چلتے ہیں یا تباہی کی طرف۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں عوام کے لئے عوام حکومت کرتے ہیں، عوام ہی مقتدر ہیں، بطور امریکی صدر امریکہ کو سب پر ترجیح دوں گا۔ امریکہ دنیا کا اچھا دوست اور اتحادیوں کا بہترین دوست ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہتر معیار زندگی کے لئے سب کا ایک ساتھ کام کرنا ضروری ہے، امریکہ ایسے معاہدے کا حامی نہیں، جس میں فائدہ ایک ہی فریق کا ہو، تباہی پھیلانے والوں کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا نے اپنے لاکھوں عوام کو بھوکا مارنے کا جرم کیا، شمالی کوریا کا جوہری قوت کا حصول دنیا کو تباہی میں ڈال رہا ہے، مجبور کیا گیا تو شمالی کوریا کی تباہی کے علاوہ دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ راکٹ مین (شمالی کوریا رہنما کم جانگ ان) خودکشی کی طرف جا رہا ہے، شمالی کوریا کے بعد ایران ہے، جو تباہی کی بات کرتا ہے، چین اور روس کا معاشی پابندیوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ امریکی صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ اور ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ممالک کے احتساب کا وقت آگیا ہے، اسلامی ممالک سے خطاب میرے لئے اعزاز تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لئے ایک ماہ پہلے ایک نئی پالیسی دی ہے، اس میں کوئی ٹائم ٹیبل نہیں، جنگ کا طرز عمل بھی بدلا ہے، شام اور عراق میں بہت کامیابیاں ملی ہیں، داعش کے خلاف اتنے برس میں ایسی کامیابیاں نہیں ملیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں، بشار الاسد نے اپنے شہریوں پر جوہری ہتھیار استعمال کئے، داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں یو این او کی کارکردگی لائق تحسین ہے، ترکی، لبنان کا شامی مہاجرین کی مدد پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اقوام متحدہ کو 22 فیصد بجٹ دیتا ہے، جو ہمارے ساتھ ناانصافی ہے، امریکہ بھی 193 ممبر ممالک کی طرح ایک ملک ہے، کسی ریاست پر باقی ممبر سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 670413
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے