0
Wednesday 20 Sep 2017 21:05
ایران کا میزائل پروگرام صرف اور صرف دفاعی نوعیت کا ہے

ایران ایٹمی معاہدے کو توڑنے میں پہل نہیں کریگا لیکن دوسرے فریق کیجانب سے اسکی خلاف ورزی کا ٹھوس اور مستحکم جواب دیگا

امریکی حکومت عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرکے صرف اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کریگی
ایران ایٹمی معاہدے کو توڑنے میں پہل نہیں کریگا لیکن دوسرے فریق کیجانب سے اسکی خلاف ورزی کا ٹھوس اور مستحکم جواب دیگا
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں ایران کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، تاہم ایران اسے توڑنے میں پہل نہیں کرے گا۔ ایرانی صدر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے کو توڑنے میں پہل نہیں کرے گا لیکن دوسرے فریق کی جانب سے اس کی خلاف ورزی کا ٹھوس اور مستحکم جواب دے گا۔ صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اگر جامع ایٹمی معاہدہ، میدان سیاست کے نااہلوں کے ہاتھوں سبوتاژ ہوتا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہوگا، لیکن اس سے ایران کی ترقی و پیشرفت کا عمل ہرگز متاثر نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی حکومت بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرکے صرف اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کرے گی اور مذاکرات اور معاہدوں کے حوالے سے دنیا کی تمام قوموں اور حکومتوں کا اعتماد امریکہ سے ختم ہو جائے گا۔ ایرانی صدر نے ایک بار پھر تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ جامع ایٹمی معاہدہ دو برس کے مذاکرات کے نتیجے میں انجام پایا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری نے سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے ذریعے اس کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامع ایٹمی معاہدہ صرف ایک یا دو ملکوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ سلامتی کونسل کی ایک دستاویز ہے اور اس کا تعلق پوری عالمی برادری سے ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کی دفاعی طاقت و صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام صرف اور صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کے امن و استحکام کو محفوظ رکھنا اور احمقوں کی مہم جوئی کو روکنا ہے۔ علاقائی بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ہمارے خطے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے نتیجے میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں خطے میں مداخلت اور تباہ کن اسلحہ فروخت کرنے کے لئے ایران پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ صدر ایران نے کہا کہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بیرونی مداخلت اور خطے کے لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے نتیجے میں بحران پھیلے گا اور جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شام، یمن اور بحرین کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ تشدد کی روک تھام اور عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ان بحرانوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ آج کی دنیا میں ملکوں کی سلامتی، استحکام اور ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ فلسطین کے عوام ایک شرپسند اور نسل پرست حکومت کے ہاتھوں کمترین انسانی حقوق سے محروم ہوں اور اس سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے محفوظ رہیں۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یمن، شام، عراق، بحرین، افغانستان، میانمار اور بہت سے دیگر علاقوں کے عوام غربت، جنگ اور جھڑپوں کے عالم میں زندگی گذاریں اور بعض لوگ یہ سمجھتے رہیں کہ وہ اپنے ملکوں میں امن و سلامتی اور ترقی لا سکیں گے۔  ایرانی صدر نے کہا کہ ایران آج مشرق وسطٰی میں دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے اور ہمارا یہ اقدام فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالص، انسانی، اخلاقی اور اسٹریٹیجک بنیاد پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہے کہ ایران نہ تو اپنی تاریخی سلطنت کو احیاء کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی سرکاری مذہب کو کسی پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی ہم طاقت کے زور پر اپنے انقلاب کو برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ایران نے کہا کہ ہم اپنی تہذیب، ثقافت، مذہب اور انقلاب، لوگوں کے دلوں میں داخل کرنا چاہتے ہیں اور عقل و منطق سے بات کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ شعراء، عرفاء اور حکماء ہمارے سفیر ہیں اور ہم حافظ کے ذریعے پہلے ہی دنیا کو فتح کرچکے ہیں، لہذا ہمیں کسی نئی فتح کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 670698
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب