0
Saturday 30 Sep 2017 10:59

پاکستان عوامی تحریک نے پنجاب حکومت سے 7 سوالوں کے جواب مانگ لئے

ہمارے سوالوں کے جوابات نہ دیئے گئے تو عدالت سے رجوع کریں گے، خرم نواز گنڈا پور
پاکستان عوامی تحریک نے پنجاب حکومت سے 7 سوالوں کے جواب مانگ لئے
اسلام ٹائمز۔ پاکستان عوامی تحریک نے پنجاب حکومت کی طرف سے قائم کی گئی کمپنیوں سے متعلق 7 سوالات کا جواب مانگا ہے اور جواب نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ شہباز حکومت سستی روٹی، صاف پانی، بجلی، پارکنگ، سالڈ ویسٹ، جنگلات کے نام پر بنائی گئی کمپنیوں کا ریکارڈ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ کے حصول کیلئے انفارمیشن کمیشن کو درخواست بھی دے دی گئی ہے کیونکہ ان کمپنیوں کے نام پر قومی دولت لوٹی جارہی ہے۔ خرم نواز گنڈاپور نے لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی طرف سے صاف پانی کمپنی میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لینے پر خیر مقدم کیا اور کہا کہ عدالت صاف پانی کمپنی کے ساتھ دیگر کمپنیوں کا ریکارڈ، آڈٹ و کارکردگی رپورٹس بھی منگوائے ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے۔ اجلاس میں پنجاب کے صدر بشارت جسپال، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض وڑائچ، نوراللہ صدیقی، ساجد بھٹی، اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ شریک ہوئے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ

1:شہباز حکومت بتائے محکموں کے ہوتے ہوئے کمپنیاں کیوں بنائی گئیں؟
2:کمپنیوں کی سالانہ آڈٹ رپورٹس پبلک کیوں نہیں کی جاتیں؟
3:پنجاب اسمبلی میں ان کمپنیوں کی کارکردگی پر بحث کیوں نہیں ہونے دی جاتی؟
4:ان کمپنیوں میں کام کرنیوالے ڈائریکٹرز اور ایم ڈیز کو کس میرٹ کے تحت مقرر کیا گیا اور ان کی تنخواہیں اور مراعات کیا ہیں؟
5:میٹ کمپنی بننے کے بعد گوشت کی قیمتوں میں یکا یک 40 فیصد اضافہ کیوں ہوا؟
6:ان کمپنیوں کو کس قانون کے تحت قرضے دیے اور معاف کیے جاتے ہیں؟
7:بجلی کمپنی کے ذریعے پنجاب میں کتنے منصوبے لگے؟


خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ شریف خاندان قومی خزانے کو سائنسی انداز میں لوٹنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ آف شور کی طرز پر یہ کمپنیاں بھی لوٹ مار کیلئے قائم کی گئیں۔ پنجاب کی یہ کمپنیاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے سوا کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ کابینہ اور اسمبلی بھی ان خلائی کمپنیوں کی کارکردگی اور ضرورت کے بارے میں لاعلم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے خزانے کی پائی پائی کا حساب رکھنا اس کے عوام کا حق ہے لہٰذا ہم پنجاب حکومت کو 7 دن کا نوٹس دیتے ہیں کہ وہ ان کمپنیوں کے بجٹ، آڈٹ رپورٹس، کارکردگی رپورٹس اور ان کمپنیوں کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی کی تفصیلات فراہم کریں ورنہ پنجاب حکومت کو عدالت میں گھسیٹیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے تمام کاروباری منصوبے اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں جبکہ صحت، تعلیم کے منصوبے نجی شعبے کے حوالے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے شخصی خاندانی اقتدار کے منفی اثرات طویل عرصہ تک پاکستان اور اس کے عوام بھگتیں گے۔
خبر کا کوڈ : 673050
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب