0
Sunday 1 Oct 2017 23:00

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر
اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشترپارک سے برآمد ہوکر امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پذیر ہوگیا، جس کے بعد شہر بھر میں مجالس شامِ غربیاں کا انعقاد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یوم عاشور کی مرکزی مجلس عزا نشتر پارک میں منعقد ہوئی، جس سے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا، مجلس کے اختتام پر مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں نشتر پارک، ایم اے جناح روڈ، صدر، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، تبت سینٹر، ریڈیو پاکستان، جامع کلاتھ، لائٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ، ٹاور سے ہوتا ہوا کھارادر میں واقع امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ مرکزی جلوس عزاء میں علم، تابوت، تعزیئے، شبیہ ذوالجناح بھی برآمد کئے گئے، مرکزی جلوس میں خواتین، بچوں، بوڑھوں سمیت لاکھوں کی تعداد میں عزاداران امام مظلومؑ شریک تھے۔ مرکزی جلوس میں سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے تحت تبت سینٹر کے مقام پر نماز ظہرین کا انتظام کیا گیا۔ نماز باجماعت کی امامت آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے کی۔ علامہ حسن ظفر نقوی، ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، علمائے کرام سمیت شرکاء کی بہت بڑی تعداد نے باجماعت نماز ظہرین ادا کی، جس کے بعد عزاداران سید الشہداءؑ نے یزید وقت امریکا و اسرائیل کے خلاف شعار بلند کئے اور اپنی نفرت کا اظہار کرتے امریکی و اسرائیلی پرچم نذر آتش کیا۔ تبت سینٹر لاپتہ شیعہ افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج کیا، جس سے علامہ حسن ظفر نقوی نے خطاب کیا۔

بعد ازاں نوحوں اور مرثیوں کی صداؤں میں مرکزی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پہنچ کر اختتام پزیر ہوا، جہاں مجلس شام غریباں منعقد کی گئی۔ جلوس کی گزرگاہ پر عزاداروں کیلئے پانی، دودھ اور شربت کی سبیلیں لگائی گئیں، جبکہ نذر و نیاز کی تقسیم بھی کی گئی۔ مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز کی جانب سے انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز کے ہزاروں جوان و افسران نے فرائض انجام دیئے، جلوس کے راستوں کو بم ڈسپوزل اسکواڈ سے کلیئر کرایا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں بھی جلوس کے ہمراہ تھیں۔ جلوس کے راستوں کی 300 کیمروں سے مانیٹرنگ کی گئی، جبکہ فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ کراچی میں جلوس کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے ایم اے جناح روڈ اور اطراف کی سڑکیں بھی کنٹینر لگا کر سیل کی گئیں، جبکہ جلوس کی گزر گاہوں پر دکانیں اور مارکیٹیں بھی بند رکھی گئیں، بلند عمارتوں پر ماہر نشانے باز بھی تعینات تھے، جلوس کے دونوں راستوں پر اسکینرز نصب کیے گئے، جبکہ مرکزی جلوس میں شریک ہونے والے زائرین کو چیکنگ کے بعد شرکت کی اجازت دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کے ہمراہ مرکزی جلوس کا دورہ کیا، جبکہ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے بھی مرکزی جلوس کا دورہ کیا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہر میں موبائل فون سروس 8 محرم الحرام سے 10 محرم الحرام تک معطل کی گئی تھی، جو اب بحال کر دی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 673432
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب